طالبان حکمران بن چکے، امریکہ بڑا ہے، دل بھی بڑا کرے، افغان وزیر خارجہ


افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیرخان متقی نے کہا ہے کہ امریکا بڑا ملک ہے وہ حوصلے کا مظاہرہ کر کے افغانستان کے ساتھ ظالمانہ رویہ نہ اپنائے۔

کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ 20 سال تک تنازعہ کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کرسکا، آئندہ بھی ایسا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن ملکوں نے افغانستان کی مدد کی ان کا شکریہ اداکرتے ہیں، جنیوا عالمی کانفرنس میں بھی جن ملکوں نے مدد کا اعلان کیا انکا خیرمقدم کرتے ہیں۔

افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ فراہم کردہ رقم افغان بینک کے ذریعے مستحقین تک پہنچائی جائیگی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک کیساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں، عالمی ممالک سے توقع ہے کہ وہ افغانستان کی تعمیرنومیں مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تعمیرنو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، روزگارکے مواقع پیدا کرنے کیلئے اقدامات کریں گے، کوشش ہے جو لوگ بیرون ملک گئے ہیں وہ بھی ملک میں واپس آئیں جب کہ مہاجرین کی واپسی کیلئے بھی کوشش کرینگے۔

امیرخان متقی نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن وامان کے حوالے سے اب ماحول سازگار ہے، سرمایہ کاربھی ملک کی تعمیرنومیں اپنا کردارادا کریں۔ سرمایہ کارافغانستان آئیں ان کومکمل سیکیورٹی فراہم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت کو تسلیم کریں طالبان اب افغانستان کے حکمران بن چکے ہیں،عالمی ممالک تعصب اوربدنیتی پرمبنی پالیسی ترک کریں اورافغان حکومت کو تسلیم کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب نظام تبدیل ہو جاتا ہے تواس میں پرانے نظام کے لوگوں کوشامل نہیں کیا جاتا، کیا سابقہ افغان حکومت میں امارت اسلامی کے نمائندے موجود تھے؟ نئی افغان کابینہ میں ازبک، تاجک، پشتون اور نورستان والے بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا سے اپیل ہے کہ افغانستان کیلئے انتشاور والی پالیسی نہ اپنائیں، دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی کے کہنے پرکابینہ کو تشکیل دیا جائے، افغان کابینہ میں شامل لوگ نامی گرامی ہیں انہوں نے20 سال تک آزادی کیلئے جدوجہد کی ہے۔

افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا ہمارے سامنے شرائط نہ رکھے، ہم تمام افغانوں کے نمائندہ ہیں، حکومت میں خواتین کی شمولیت سے متعلق بھی غورکریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پڑوسی اوردوست ممالک سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، افغانستان پرغیرملکی دباوَ کو سختی سےمسترد کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، یواے ای، قطراوردیگر دوست ممالک نے اس مشکل وقت میں ہماری مدد کی ہے، چین اور ترکی نے ہمارے ساتھ بھرپورتعاون کیا ہے جس کے مشکورہیں، دیگرممالک بھی تعصب کی بجائے افغانوں کی مدد کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا سے اپیل ہے جو ممالک ہماری مدد کر رہے ہیں اسے سیاست سے نہ جوڑا جائے، افغان سفارتخانوں میں کام کرنے والے کام جاری رکھیں وہ افغانستان کے نمائندے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز