انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کیلئے نقصان دہ ثابت

فیس بک کی جانب سے انسٹاگرام پر اندرونی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تصاویر کی سماجی ویب سائٹ کے نوعمروں بالخصوص نوجوان لڑکیوں میں نقصان دہ اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کے محققین کی جانب سے تین سال پر محیط تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ انسٹاگرام کے نوعمر صارفین کی ایک بڑی تعداد کی نفسیات پرمواد کی وجہ سے برا اثر پڑ رہا ہے۔

فیس بک کی جانب سے 2019 میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق انسٹاگرام پر تصاویر سے ہر تین میں سے ایک نو عمر لڑکی کو اپنے جسم کے بارے میں نفسیاتی خدشات لاحق ہوجاتے ہیں۔

تحقیق میں رائے دینے والے نو عمروں کے مطابق ایپ کے استعمال سے اضطرات اور ڈپریشن میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

فیس بک کی ملکیتی ایپ انسٹاگرام نے اس تحقیق کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئےکہا کہ کمپنی نوجوان صارفین کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

انسٹاگرام کی پبلک پالیسی کی سربراہ کارینا نیوٹن نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ “تمام لوگوں کے اذہان میں یہی سوال موجود ہے کہ کیا سوشل میڈیا معاشرے کے لئے اچھا ہے یا برا؟ اس پر تحقیق ملی جلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاک اب صارفین کی ذہنی صحت کے لیے کام کرے گا

اس سے دونوں اثرات اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ انسٹاگرام میں ہم سوشل میڈیا کے مثبت اثرات کو اپنا مقصد بناتے ہوئے اس سے پیدا ہونے والے خطرات پر نظر رکھتے ہیں۔”

نیوٹن کے مطابق “انسٹاگرام نے خودکشی، خود ضربی، کھانے سے متعلق بیماریوں پر اگاہی پر بہت تفصیل میں کام کیا ہے تاکہ ایپ کو ہر کسی کے لئے محفوظ بنایا جاسکے”۔

فیس بک پریزنٹیشن میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں میں جنہوں نے خودکشی کے خیالات کی اطلاع دی ، 13 فیصد برطانوی صارفین اور 6 فیصد امریکی صارفین نے شامل تھے۔

محققین نے مبینہ طور پر لکھا ، “بتیس فیصد نوعمر لڑکیوں نے کہا کہ جب انہیں اپنے جسموں کے بارے میں برا محسوس ہوتا ہے تو انسٹاگرام اس احساس کو مزید بڑھا دیتا ہے‘‘۔

وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق ، وہ خصوصیات جن کو سوشل میڈیا کمپنی نے سب سے زیادہ نقصان دہ قرار دیا ہے وہ اس کے کلیدی الگورتھم کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ نوجوان ہی صارفین انسٹاگرام کی کامیابی کی اصل وجہ ہیں۔ انسٹاگرام کے 40 فیصد سے زیادہ صارفین 22 سال اور اس سے کم عمر کے افراد ہیں۔

ایک بلاگ پوسٹ میں، انسٹاگرام کی پبلک پالیسی کی سربراہ ، کرینہ نیوٹن نے اس رپورٹنگ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی صارفین کو انسٹاگرام کی مخصوص اقسام پر رہنے سے دور کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز