پی ڈی ایم ختم ہو چکی، پی ایم ڈی اے باقی ہے، تجاویز دیں مان لیں گے: فواد چودھری

پی ڈی ایم ختم ہو چکی، پی ایم ڈی اے باقی ہے، تجاویز دیں مان لیں گے: فواد چودھری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم تو ختم ہو چکی اب صرف پی ایم ڈی اے باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی اے پر جتنی مشاورت ہم نے کی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

میڈیا اتھارٹی کے خلاف صحافیوں کا دھرنا، آواز دبانے کے لیے قانون لایا گیا، بلاول بھٹو

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بات سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت منعقدہ سینیٹ کی اطلاعات و نشریات کمیٹی کے اجلاس میں کہی۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا کہ ماضی میں
آرڈیننس آنے اور نافذ ہونے کے بعد اس پر بات چیت ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مختلف ممالک کے ماڈلز کا جائزہ لے کر فریم ورک تیار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو مکمل قانون بنانا چاہتے ہیں۔

سینیٹ کی کمیٹی میں وفاقی وزیر نے کہا کہ درمیان میں کسی صاحب نے فیک ڈرافٹ شیئر کیا جس سے کنفیوژن پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری کمیٹی کے بعد قومی اسمبلی و سینیٹ کمیٹی کو جامع بریفنگ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا آئیڈیا دے دیا ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی اتھارٹی بنانا چاہتی ہے جس پر حکومت اثرانداز نہ ہو سکے۔

صحافیوں کیلیے رہائشی پلاٹس اور آسان قرضہ جات کا اجرا کررہے ہیں، فواد چودھری

شرکائے کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے وفاقی وزیرفواد چودھری نے کہا کہ آپ پی ایم ڈی اے کو چھوڑیں اپنی تجاویز لے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیک نیوز اور ورکرز کے مسائل پر آپ تجاویز دیں ہم مان لیں گے لیکن یہ نہ کہیں کہ اس پر قانون سازی نہ کی جائے۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم قانون بنانے سے پہلے ہر فورم پر جا کر مشاورت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کچھ آئیڈیاز پر کام شروع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ دو ماہ میں 75 کروڑ روپے میڈیا کو جاری کیے ہیں۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: صحافیوں کیلیے پریس گیلری بند، پی آر اے کا احتجاج و دھرنا

ہم نیوز کے مطابق سینیٹ کی اطلاعات و نشریات کمیٹی میں وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ کوئی عامل صحافی فیک نیوز کو سپورٹ نہیں کر سکتا۔ انہوں ںے کہا کہ صحافیوں کے مسائل اور فیک نیوز کے لیے ہم دو فورمز بنا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز