جامعہ پنجاب: پاکستان کی قدیم ترین جامعہ

جامعہ پنجاب: پاکستان کی قدیم ترین جامعہ | humnews.pk

لاہور: پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں مغل حکمرانوں کے بعد انگریز عہد میں بھی متعدد شاندار عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ سرخ اینٹوں سے مزین ان عمارتوں میں سرکاری ادارے اور عبادت گاہیں شامل ہیں۔

گوتھک اور اینگلو مغل فن تعمیر کی عکاس ان عمارتوں نے لاہور کو اس وقت کا ایک جدید شہر بنادیا تھا۔ انگریز عہد میں تعمیر ہونے والی ان خوبصورت عمارتوں میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی قدیم عمارت بھی شامل ہے۔ جو ایک صدی سے زائد کا عرصہ بیت جانے بعد آج بھی اپنی شان و شوکت کے ساتھ قائم ہے۔

انارکلی کے قریب مال روڈ پر واقع جامعہ پنجاب کی قدیم عمارت انگریز عہد کا شاہکار ہے۔ جامعہ پنجاب پاکستان کی قدیم ترین جامعہ اور برصغیر میں مسلم اکثریتی علاقے میں قائم ہونے والی پہلی جامعہ ہے۔ اس دانش گاہ کا قیام 1882ءمیں عمل میں آیا ۔

ساٹھ کی دہائی میں طالب علموں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور یونیورسٹی کو وسعت دینے کے غرض سے شہر سے باہر جامعہ پنجاب کا نیا کیمپس تعمیر کیا گیا اور جامعہ کے بہت سے شعبے نیو کیمپس میں منتقل کر دیئے گئے۔ اب نیو کیمپس کے اردگرد لاہور کے نئے علاقے بن گئے جو اب شہر کا حصہ ہیں جیسے گارڈن ٹاون، فیصل ٹاون وغیرہ۔ دوسری جانب جامعہ پنجاب کا ایک کیمپس گوجرانوالہ میں بھی کھولا گیا ہے اور دوسرے شہروں کے لیے بھی متعدد منصوبے زیرِ غور ہیں۔

لاہور کے پرانے کیمپس کو علامہ اقبال کیمپس اور نئے کیمپس کو قائدِاعظم کیمپس کہا جاتا ہے جو ان کے سرکاری نام ہیں۔ جامعہ کا ایک ذیلی کیمپس خانس پور کے پہاڑی علاقے میں بھی قائم ہے مگر یہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ یہاں کوئی شعبہ مستقل بنیادوں پر قائم نہیں ہے۔

جامعہ پنجاب کے چاروں کیمپس میں 13 کلیات (فیکلٹیاں) ، 9 کالج اور 64 شعبے ہیں جب کہ اس کے الحاق شدہ کالجوں کی تعداد 434 ہے۔ جامعہ پنجاب میں اس وقت اساتذہ کی تعداد 700 سے زیادہ ہے اور طلباء کی تعداد تقریباً تیس ہزار ہے۔

مال روڈ پر واقع جامعہ پنجاب کا قدیم کیمپس جو اب علامہ قبال کیمپس کہلاتا ہے برصغیر کی تاریخ میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انگریز دور میں برصغیر کے مسلم اکثریت والے علاقوں میں قائم ہونے والی یہ پہلی باقاعدہ یونیورسٹی قرار دیا جاتا ہے۔

Image result for old lahore

سید محمد لطیف پنجاب یونیورسٹی کے قیام کا سہرا یہاں کے عوام کو دیتے ہیں جنہوں نے اظہار رائے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول اور ترسیل کے لئے یہاں تعلیمی اداروں کے قیام پر زور دیا۔

14اکتوبر 1882 کو پنجاب یونیورسٹی پہلی مرتبہ باقاعدگی کے ساتھ قانونی طور پر تسلیم کی گئی اور ایک مجلس انتظامیہ قائم ہوئی جسے سینٹ کے نام سے موسوم کیا گیا۔

پنجاب یونیورسٹی کی مرکزی عمارت جسے یونیورسٹی ہال بھی کہا جاتا ہے برصغیر کے معتبر ڈیزائنر بھائی رام سنگھ کی ڈیزائن کردہ ہے۔ یونیورسٹی ہال اینگلو مغل فن تعمیر کا ایک حسین شاہکار ہے۔ سرخ اینٹوں سے مزید بلندو بالا عمارت اور کلاک ٹاور دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

اینگلو مغل طرز تعمیر کا بہترین نمونہ کہلائی جانے والی اس عمارت کا سنگ بنیاد 1905 میں رکھا گیا تھا۔ بلڈنگ کا حصہ مختلف سائز کے کئی گنبدوں پر مشتمل ہے جس میں مغلیہ فن تعمیر کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے البتہ عمارت کے سامنے والے حصوں میں تعمیر کیے جانے والے برآمدے انگریز فن تعمیر کے عکاس ہیں۔

1942 میں یہاں بیچلرز اور 1955 میں ماسٹرز کی کلاسوں کا اجراء ہوا۔ 2003 میں یہاں ڈاکٹریٹ پروگرام شروع ہوا اور 2004 میں اسے کالج کا درجہ دے دیا گیا۔ اس وقت اس کالج کے زیراہتمام چھ شعبہ جات کام کر رہے ہیں اور ہر شعبہ تین ڈگری پروگرام کروارہا ہے۔

Image result for university of punjab

پنجاب یونیورسٹی کا سینیٹ ہال 1876 میں تعمیر ہوا۔ یہ ہال پنجاب یونیورسٹی کے اعلیٰ ارکان کے اجلاس کے لئے تعمیر کیا گیا۔ یونیورسٹی کے انتظامی اجلاس یہاں منعقد ہوتے تھے اور اب بھی اعلیٰ سطحی اجلاس یہیں منعقد کئے جاتے ہیں۔

Image result for university of punjab

قیام پاکستان کے بعد یونیورسٹی لائبریری میں اور بھی اضافہ ہوا۔ سر منوہر لال کے کتب خانے کی 2154 کتابیں اور پروفیسر برج نرائن کی 2380 کتب، سر گنگا رام کی 5000 کتابیں ، مولوی محبوب عالم کی 6500 کتب ، حکیم عبدالمجید عتیقی کی 1800 کتب یونیورسٹی لائبریری منتقل کر دی گئیں۔

پروفیسر محمد اقبال کی فلسفہ الہٰیات اور مذہب پر 1713 کتابیں ، میاں احمد شفیع کی 1113 کتب، پروفیسر ایم جی سنگھ کی 2000 کتب کے مجموعے اس لائبریری کو حاصل ہوئے۔ علاوہ ازیں حافظ محمود شیرانی کی 1700 قلمی کتب کا نہایت قابل قدر ذخیرہ بھیل ائبریری میں منتقل ہوا۔

پنجاب یونیورسٹی کی قدیم عمارت کے باہر مال روڈ پر ڈاکٹر الفریڈ کوپر وولنر کا مجسمہ نصب ہے۔ الفریڈ وولنر 1928 سے 1936 تک پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز