انجکشن سے خوفزدہ افراد کیلیے ویکسین والا اسٹیکر تیار

 دو امریکی جامعات نے سوئی لگوانے سے خوفزدہ افراد کےلیے ویکسین سے بھرا ہوا پیوند تیار کر لیا ہے

محققین کے مطابق یہ پیوند ابتدائی آزمائش میں سوئی والی ویکسین سے بہتر اور مؤثر ثابت ہوا ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا چیپل ہِل کے تیار کردہ اسٹیکر نما پیوند میں بہت ساری باریک سوئیاں نصب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سائنو ویک ویکسین کے استعمال کی افادیت کا ڈیٹا سامنے آگیا

جب انہیں جلد پر چپکایا جاتا ہے تو سوئیوں میں موجود ویکسین کی خوراک جلد کے اندر سرایت کرجاتی ہیں اور یوں ویکسین دینے کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔

یہ طریقہ روایتی طور پر ویکسین دینے سے کئی گنا بہتر ہے جس میں عموماً بازو میں ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ اس کی تفصیلات پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع کی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر تھری ڈی پرنٹر سے  بنایا گیا ہے۔ ڈاک ٹکٹ کی جسامت کے پولیمر ٹکڑے پر باریک سوئیاں لگائی گئی ہیں۔ اس سے سوئی کی تکلیف کم ہوتی ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد کو بہت تیزی سے ویکسین یا کسی اور دوا کا ٹیکہ لگایا جاسکتا ہے

تحقیق کے سربراہ پروفیسر جوزف ڈی سائمن نے کہا  ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت پوری دنیا کے لوگوں میں ویکسین کی کم، درمیانی یا زیادہ خوراک لگائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس کےلیے خاص مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی اور سوئی کے خوف کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ یہاں تک کہ خود مریض بھی اسے استعمال کرسکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  ناشتے میں چا کلیٹ کھائیں، وزن گھٹائیں

اس ایجاد کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سوئیوں کی تعداد اور خوراک کی مقدار کو کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے جبکہ معمولی مقدار پر بھی وہی امنیاتی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں کیونکہ جلد پرموجود خلیات امنیاتی طور پر بہت سرگرم ہوتے ہیں۔

تھری ڈی پرنٹر سے کئی اقسام کے پیوند بنا کر انہیں، فلو، خسرہ، کووڈ اور ہیپاٹائٹس کی ویکسین سے لیس کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز