کورونا: یورپ اور امریکہ میں متوقع عمروں میں کمی

برطانیہ میں قومی اعداد و شمار کے دفتر (او این ایس) کے تخمینے کے مطابق ملک میں مردوں کی عمروں میں 40 سال میں پہلی بار کمی واقع ہوئی ہے

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کوویڈ 19 کی وجہ سے سنہ 2020 میں یورپ اور امریکہ کے بیشتر حصوں میں متوقع عمروں میں کمی دیکھی جا رہی ہے جو کہ اس سے قبل صرف دوسری عالمی جنگ کے وقت دیکھی گئی تھی۔

گذشتہ تین سال کے دوران سنہ 2020 تک پیدائش کے وقت مردوں کے لیے متوقع عمر 79 سال تھی جو کہ 2012-14 میں آخری مرتبہ دیکھی گئی تھی جبکہ خواتین کی متوقع عمر تقریباً جوں کی توں یعنی 83 سال سے کم رہی۔

یہ بھی پڑھیں: اونٹ کے ذریعے کورونا وائرس ختم ہو سکتا ہے، تحقیق

عام طور پر گزشتہ دہائیوں میں برطانیہ اور دنیا بھر میں لوگوں کی عمروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان میں کمی شاذ و نادر ہی نظر آئی ہے۔

کووڈ کی وبا کے پھیلنے سے پہلے برطانیہ میں پیدائش کے وقت متوقع عمروں میں اضافہ ہو رہا تھا اگرچہ یہ پچھلی دہائیوں کے مقابلے میں سنہ 2011 کے بعد بہت سست شرح سے ہونے والا اضافہ تھا۔

لیکن نئے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ سنہ 2015-17 اور سنہ 2018-20 کے درمیان مردوں کی متوقع عمر میں سات ہفتوں تک کی کمی آئی اور سنہ 1980 کے بعد سے یہ اس طرح کی پہلی گراوٹ ہے۔

ان سب کے باوجود یہ محض متوقع عمر کے اعداد و شمار ہیں جنھیں ’پیریڈ لائف ایکسپیکٹینسی‘ کہا جاتا ہے اور یہ اصل عمر کی پیشگوئی نہیں کرتے۔

اس کے بجائے اس سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ایک نوزائیدہ بچے کی اوسط عمر کیا ہو گی اور اس کی بنیاد موجودہ موت کی شرح پر کی جاتی ہے۔

چونکہ کوویڈ سے ہونے والی اموات کی شرح طویل مدت تک جاری رہنے کا امکان نہیں تو اس لیے ان نئے تخمینوں کا مطلب یہ نہیں کہ سنہ 2020 میں پیدا ہونے والے بچے کی زندگی سنہ 2019 میں پیدا ہونے والے بچے سے کم ہو گی۔

لیکن یہ وبائی امراض کے اثرات کی ایک جھلک ضرور فراہم کرتے ہیں جس کا موازنہ وقت کے ساتھ مختلف ممالک اور مختلف آبادیوں کے مابین کیا جا سکتا ہے۔

تین سال کی اوسط عمر کے بجائے خود 2020 کو دیکھتے ہوئے او این ایس نے پایا کہ مردوں کی متوقع عمروں میں 1.2 سال اور خواتین کی عمروں میں 0.9 تک کمی واقع ہوئی ہے جو کہ مردوں میں کووڈ 19 سے ہونے والی زیادہ اموات کی عکاسی کرتا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2020 کے لیے متوقع عمر میں اس بڑی کمی کے معاملے میں برطانیہ تنہا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جوبائیڈن نے کورونا کی بوسٹر ڈوز لگوا لی

پورے یورپ، امریکہ اور چلی جیسے 29 ممالک کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں سے تقریباً تمام ممالک کی اوسط عمروں میں کمی آئی ہے جس نے برسوں کے اندر آنے والی بہتری کو الٹ کر رکھ دیا۔

اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیور ہلم سینٹر فار ڈیموگرافک سائنس کے محققین کے مطابق امریکہ میں سب سے زیادہ اثرات نظر آئے ہیں جہاں مردوں کی عمروں میں دو سال سے زیادہ کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔

 

متعلقہ خبریں