مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانےکا افتتاح ، پاکستان کا اظہار تشویش


اسلام آباد: پاکستان نے امریکی سفارت خانہ کی بیت المقدس منتقلی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کی قراردادوں کے باوجود سفارت خانے کی منتقلی افسوسناک ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدام عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے موقف کا اعادہ کرتا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان پہلے ہی فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرچکے ہیں۔

دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانےکا افتتاح کردیا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے بذریعہ وڈیو لنک خطاب کیا۔ امریکی نائب وزیر خارجہ جان سولیون کی قیادت میں وفد نے شرکت کی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایونکا ٹرمپ، ان کے شوہر جیرڈ کشنر اور دیگر شامل تھے۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے عزم پر قائم ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی پٹی پر فلسطینیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔

رپورٹس کے مطابق غزہ میں فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں 46 فلسطینی شہید جبکہ 1700 سے زائد زخمی ہوگئے۔


متعلقہ خبریں