ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک: قومی پرچم سرنگوں

اسلام آباد: پاکستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک کردیا گیا ہے۔

بہاولپور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا

محسن پاکستان کی اس سے قبل نماز جنازہ فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی گئی جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ احمد الغزالی نے پڑھائی۔

پاکستان کے قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ایک انکلوژر عوام کے لیے بطور خاص بنایا گیا تھا جب کہ دوسرا انکلوژر وی آئی پیز کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ کے بعد ان کے جسد خاکی کو تدفین کے لیے ایچ 8 قبرستان اسلام آباد روانہ کیا گیا جہاں ان کی تدفین کردی گئی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

ہم نیوز کے مطابق نماز جنازہ سے قبل محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاک فوج کے دستے نے سلامی پیش کی۔ نامور ایٹمی سائنسدان کی نماز جنازہ کے موقع پر بارش بھی ہوتی رہی جس سے سردی میں بھی اضافہ ہوا لیکن موسم خوشگوار ہو گیا۔

نظر بندی کیس کی پیروی خود کرنا چاہتا ہوں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

پاکستان کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیرخان صبح انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر 85 برس تھی اور وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔ صبح طبعیت ناساز ہونے پر انہیں ایک مرتبہ پھر اسپتال کے آئی سی یو وار ڈ میں منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ آج وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی نمازجنازہ میں کابینہ ارکان، اراکین پارلیمنٹ اورعسکری سول قیادتوں سمیت عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے انتقال اور تدفین کے موقع پر پاکستان کا قومی پرچم سرنگوں ہے۔ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں تین صدارتی اعزاز دو مرتبہ عطا کیے گئے۔ انہیں نشان امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا تھا۔

پاکستانی ایٹم بم کے خالق ہندوستان کے شہر بھوپال میں 1936 میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے اپنے خاندان کے ساتھ وہ کراچی منتقل ہو گئے تھے۔

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کیلئے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں ہوگی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے1960 میں کراچی یونیورسٹی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے جرمنی اور ہالینڈ سے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1967میں ہالینڈ سے میٹالرجی میں ماسٹراور 1972 میں بیلجیم سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں وہ پاکستان لوٹ آئےـ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر انہوں نے ’’انجینئری ریسرچ لیبارٹریز‘‘ کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔

اس ادارے کا نام مرحوم صدر پاکستان جنرل محمد ضیا الحق نے یکم مئی 1981 کو تبدیل کرکے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

یوم تکبیر:جب پاکستان مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے نومبر 2000 میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔

متعلقہ خبریں