کمزور انسان انصاف اور طاقتور این آر او چاہتا ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کمزور انسان انصاف اور طاقتور این آر او چاہتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عشرہ رحمت اللعالمین ﷺ کی تقریبات کا آغاز کر کے فخر محسوس کر رہا ہوں جبکہ چھوٹے تھے تو سونے سے پہلے یہی دعا کرتے تھے کہ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر لگا۔

انہوں ںے کہا کہ ہمارے رول ماڈلز اور سیدھے راستے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ میں جہاں آج ہوں ہمیشہ ایسا نہیں تھا اور میں ہمیشہ سے اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہوں میں تب تک نہیں سوتا جب تک اپنی زندگی کا جائزہ نہ لوں جبکہ موجودہ دور میں نوجوان نسل انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں جنہیں رول ماڈل سمجھتا تھا ان کی زندگی کو قریب سے دیکھا اور میں نے انہیں تباہ ہوتے ہوئے دیکھا۔ صادق اور امین کا پیسے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جو صادق اور امین ہوتا ہے سب اس کی عزت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی زندگی سے سیکھو۔

انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ تمام انسانوں کے لیے رحمت اللعالمین بن کر آئے تھے۔ ایک راستہ ناجائز دولت کمانے کا ہے اور دوسرا راستہ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا ہے جبکہاللہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی زندگی سے سیکھنے کا حکم دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک: قومی پرچم سرنگوں

عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ انصاف تمام انسانوں کے لیے ہوتا ہے اور کمزور انسان انصاف اور طاقتور این آر او چاہتا ہے جبکہ جن قوموں میں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی وہ کبھی اوپر نہیں جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے انسانوں کو اتحاد کا سبق دیا۔ اسلامی معاشرہ انصاف پر قائم تھا اور قانون سب کے لیے برابر تھا۔ برطانیہ گیا تو وہاں دیکھا کہ ان کی اخلاقیات ہم سے بہت اوپر ہیں اور برطانیہ میں جو جھوٹ بولنے پر پکڑا جائے تو اسے استعفیٰ دینا پڑتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جو انتخابات ہارتا ہے وہ کہتا ہے دھاندلی ہوئی۔ ہماری پہلی حکومت ہے جو انتخابات ریفارمز سے متعلق بات کر رہی ہے اسی لیے کرپشن ختم کرنے کے لیے ای وی ایم مشینیں لائے اور وہ لوگ ای وی ایم کی مخالفت کر رہے ہیں جو خود دھاندلی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام وزرا کو حکم دیتا ہوں کہ ایسا ربیع الاول منانا ہے جو کبھی نہیں منایا گیا۔

متعلقہ خبریں