جادو ٹونے سے ملک چلایا جا رہا ہے، عمران خان کو سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان منتخب  اور آئینی وزیراعظم نہیں ہیں، وہ بتائیں ان کی سیاسی شناخت کیا ہے۔

اسلام آباد  ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد  میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ منتخب وزیر اعظم کو آئین جو حقوق دیتا ہے اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،عمران خان آئینی وزیر اعظم نہیں ہے،ان کے پاس عوامی مینڈیٹ ہے نہ عوام کا ووٹ ہے۔

عمران خان نواز شریف بننے کی کوشش نہ کریں، شیر کی کھال پہننے سے کوئی شیر نہیں بن جاتا۔

مریم نواز نے کہا کہ ملک کو جادوٹونے اور جھاڑ پھونک  سے چلایا  جارہا ہے،ایک شخص کی وجہ سے ملک کو تماشا بنا دیا گیاہے۔

مریم نواز نے کہا کہ نیب نے میری ضمانت منسوخی کی درخواست دی،میں نیب میں اپنے ہمدرد کو دیکھنا چاہتی ہوں،
درخواست گزار کا چہرہ قوم کو دکھانا چاہیے،نیب کو جس نے درخواست دی وہ کیا چاہتاہے ؟

مریم نوازنے کہاکہ درخواست لکھنے والے کو 22توپوں کی سلامی دی جائے، درخواست مجھے ڈرانے کے لیے ہے،درخواست کوپڑھ کرلگا جیسےبچےڈررہےہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ وہ گرفتاری سے ڈرتی ہیں  اور نہ ہی انہیں  جعلی مقدمات کا ڈر ہے،سچ کو ایک نہ ایک دن سامنے آنا ہے۔

مریم نواز نے کہاکہ کیاآج آپ کوووٹ کوعزت دو کانعرہ یاد آیا، نواز شریف منتخب اور آئینی وزیراعظم تھے، ان کی جدوجہد اس کی ذات کے لیے نہیں تھی، کیا آپ نے قوم کو بے وقوف سمجھ رکھا ہے،ووٹ کو عزت دینے کے لیے جیلیں اور صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی سیاسی پہچان اور تعارف منتخب حکومت کے خلاف سازش کرناہے، نواز شریف نے اپنی ذات اور حکومتوں کی قربانی دی ہے،عمران خان کی سیاسی پہچان امپائر کی انگلی ہے۔

عمران خان کا جمہوریت او ر جمہوری جدوجہد سے کوئی لینا دینا نہیں،عمران خان کو سیاسی شہید نہیں بننے دیا جائے گا، عمران خان سے پوچھنا چاہتی ہوں ان کا سیاسی تشخص کیا ہے؟ ان کو اپنی نااہلی کا جواب دینا پڑے گا۔

عمران خان کو تاریخی قرضوں کا جواب دینا پڑیگا، عمران خان کو پاکستان کو پوری دنیا میں رسوا کرنے کا جواب دینا پڑیگا،جنترمنتر سےپیٹرول اورآٹاسستاکیوں نہیں کرتے؟

مریم نواز نے کہا کہ ووٹ کوعزت دوکی خاطرجیل کاٹنی پڑتی ہے،جلاوطن ہوناپڑتاہے،ووٹ کوعزت دوکی خاطراٹک قلعہ میں جاناپڑتاہے۔

پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہے،پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں ۔

میری درخواست میں ہربات واضح ہے،اسلا م آباد ہائیکورٹ نیب اورمیر ی درخواست کوساتھ ساتھ لیکر چلناچاہتی ہے،اپنا موقف واضح کرنے کے لیے ہائیکورٹ میں دوسری درخواست دینا پڑی تو دوں گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز