امریکہ کاافغانستان سے متعلق ماسکو مذاکرات میں شریک نہ ہونے کا اعلان

روس کی میزبانی میں افغانستان سے متعلق اہم اجلاس آج ماسکو میں ہوگا۔ اس کانفرنس میں پاکستان، چین، روس اور افغانستان شامل ہوں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ماسکو مذاکرات میں چین اور پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور ایران بھی شامل ہوں گے۔

ترجمان طالبان نے کہا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں سیاسی اور معاشی امور پر گفتگو ہوگی۔  تمام ممالک افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر ایک مشترکہ مؤقف پر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور طالبان مذاکرات، انسانی امداد فراہم کرنے پر اتفاق

دوسری جانب  امریکہ نے مذاکرات میں شریک نہ ہونے کا اعلان کیا ہے ۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ روس کی میزبانی میں  ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔ لاجسٹک مسائل کی وجہ سے مذاکرات میں شرکت ممکن نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چاہتے ہیں کہ اس فورم سے معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔اس ہفتے مذاکرات میں حصہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

روس 2017 سے افغانستان کی صورتحال پر ماسکو مذاکرات کا انعقاد کررہا ہے اور اب تک اس کے کئی دور منعقد ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل رواں سال مارچ میں روس نے افغانستان پر عالمی کانفرنس کی میزبانی کی تھی جس میں روس، امریکا، چین اور پاکستان نے شرکت کی تھی جس میں افغانستان میں موجود فریقین سے امن معاہدے پر پہنچنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ان مذاکرات سے قبل 12 اکتوبر کو افغانستان پر جی20 سمٹ منعقد ہوا تھا جس میں ملک کو انسانی بحران سے نکالنے کے لیے اقدامات پر گفتگو کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان میٹرک تک لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر تیار

یہ مذاکرات  ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب طالبان کی افغان حکومت داعش کے دہشت گرد حملوں سے نبرد آزما ہے اور عالمی برادری نے وہاں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔

روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کی صورتحال آسان نہیں ہے اور عراق اور شام سے عسکری کارروائیوں کا تجربہ رکھنے والے دہشت گرد بڑی تعداد میں افغانستان کا رخ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں