ایئرپورٹس کی زمینوں پر بنے شادی ہال بند کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے ملک کےائیرپورٹس کی زمینوں پر بنے شادی ہالز فوری طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سول ایویشن کی زمین کے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ڈی جی سی اے اے تمام شادی ہالز بند کرکےرپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائیں۔ ڈی جی ایف آئی اے آئندہ سماعت پر حاضر ہوکر صورتحال سے آگاہ کریں۔

عدالت نے ائیر پورٹ کی زمین ائیر پورٹ کے مقاصد کے طور پر استعمال کرنے کا حکم بھی دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ کراچی ایئر پورٹ کے قریب 209 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ پر ایف آئی اے فائنڈنگ دے۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے وفاق کو زمین دینے کے بعد صوبائی دائرہ اختیار ختم ہوجاتا ہے۔

چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے سوال کیا کہ آپ کواندازہ ہے کراچی ائیرپورٹ کا کیا حال کردیا ؟ آپ لوگ پورے ائیر پورٹ میں صرف 2جہاز اڑا رہے ہوتے ہیں۔

ڈی جی سول ایوی ایشن نے عد الت میں جواب دیا کہ ہمارے پاس نیشنل فلائٹ کی کمی ہے، روزانہ 70 سے 80 فلائٹ معمول کے مطابق ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ لوگ دن میں جہاز کیوں نہیں اڑاتے، رات میں اڑاتے ہیں؟ آپ نے کراچی ائیر پورٹ کو بھیڑ بکریوں کا اڈا بنایا ہوا ہے۔ آپ سے ائیر پورٹ بنتا نہیں شادی ہالز چلانے لگے ہیں۔

چیف جسٹس نے وکیل سے پوچھا سندھ حکومت وفاق کی زمین کسی اور کو الاٹ کیسے کرسکتی ہے؟

ڈی جی سول ایوی ایشن نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی سے سے تصدیق کروائی ہے، جو الاٹیز دکھا رہے ہیں وہ جعلی ہے۔

جسٹس قاضی امین احمد نے کہا دبئی اور قطر کا ائیر پورٹ دیکھا ہے، کوئی ایک بھی کمرشل استعمال ہورہا ہے؟

عدالت نے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے کی پلاٹ الاٹمنٹ کے متعلق رپورٹ، چیئرمین بورڈ آف ریونیو، ڈی جی سول ایوی ایشن اور ایس بی سی سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز