پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ تجارت کا معاہدہ

پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ تجارت اور معاشی روابط میں اضافے کا معاہدہ ہوگیا ہے۔

مشیر تجارت عبدالرازاق داؤد نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے شام میں پاکستانی سفیر سعید محمد خان نے  پر دستخط کیے۔ شام وزیر اقتصادیات و بیرونی تجارت ڈاکٹر ثمر الخلیل نے دستخط کیے ہیں۔

عبدالرازاق داؤد کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے تحت مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی تجارت کے ڈیٹا بیس کے مطابق 2020 کے دوران شام کو پاکستان کی برآمدات 25.53 ملین امریکی ڈالر تھیں۔

معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک طریقہ کار تلاش کرنا ہے۔ بالخصوص سرمایہ کاری کے منصوبوں، نمائشوں اور فورمز کا انعقاد کرنا۔

شام کے وزیر اقتصادیات الخلیل کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی سطح پر تعلقات میں واضح ترقی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 2020 کی اسی مدت کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران 100 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مشترکہ ورکنگ کمیٹیاں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی سطح کو اپ گریڈ کرنے، سرمایہ کاری اور تجارتی تبادلے کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہوں گی۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ معاہدہ اقتصادی میدان میں تعاون کی نئی راہیں کھولے گا اور اس سے دوطرفہ تجارت بڑھے گی۔

پاکستان شام کو کپڑا اور ٹیکسٹائل سے بنا دیگر سامنا، اناج، پلاسٹک، اون، دواسازی میں استعمال ہونے والی مصنوعات اور روئی بھی بھیجتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں نے رزاق داود نے بتایا تھا کہ اردن نے پاکستان کے تین مذبح خانوں کو گوشت برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔

پاکستان کے یہ مذبح خانے گائے، بھیڑ، بکرے اور اونٹ کا گوشت اردن کو برآمد کر سکیں گے۔ مشیر تجارت نے زور دیا تھا کہ پاکستان کے برآمد کنندگان  گوشت کے لیے اس غیر روایتی مارکیٹ سے فائدہ اٹھائیں۔

متعلقہ خبریں