پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑے گا، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتے ہیں، دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر پاکستان میں اب بھی اس کی قیمت کم ہے، مگر میں کو آپ بتا دینا چاہتا ہوں ہمیں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔

قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں تیل کی  عالمی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ  ہوا ہے، بھارت میں  پٹرول250 روپے جبکہ پاکستان میں 138 روپے فی لیٹر دستیاب ہے،۔خطے کے دیگر ملکوں کی نسبت پاکستان میں پٹرول سب سے سستا ہے۔ عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں بھی پٹرولیم مصنوعات  کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیراعظم کا مہنگائی سے ریلیف کیلئے 2 کروڑ خاندانوں کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فلاحی پروگرام پیش کررہے ہیں، پروگرام سے  ملک کو فلاحی ریاست بنانے میں مدد ملے گی،احساس ٹیم کو خاص طور پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،تین سال میں انہوں نے پورے پاکستان کا ڈیٹا مرتب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کے بغیر سبسڈی دینا آسان کام نہیں تھا،قوم کو یاد کراتا ہوں کہ جب حکومت ملی تو معاشی حالات بہت برے تھے،حکومت ملی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ اور قرضہ ملا، ذخائر نہ ہونے کے برابر تھےاور قرض ادا کرنے کیلئے رقم نہ تھی۔

وزیراعظم  نے مہنگائی سے ریلیف کیلئے 2 کروڑ خاندانوں کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گھی ، آٹا ، دال پر تیس فیصد سبسڈی  دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی پر کنٹرول کیلئے پوری کوشش کررہی ہے۔ خطے کے دیگر ملکوں کی نسبت ملک میں دالوں سمیت  اشیائے ضروریہ سستی ہیں۔

وزیراعظم نے کامیاب پاکستان پروگرام  کیلئے 1400 ارب روپے کا اعلان کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے اعلان کیا کہ 40 لاکھ مستحق خاندانوں کو گھروں کی تعمیر کیلئے بلاسود قرضے ملیں گے ۔ہرخاندان سے ایک فرد کو   ہنر مند بنایا جائیگا ۔

وزیراعظم نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سکالر شپ پروگرام کا بھی اعلان کیا جس میں 60 لاکھ وظائف کیلئے 47 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

صحت کارڈ

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہرخاندان کے ایک فرد کوہیلتھ انشورنس کارڈ ملے گا۔ مارچ 2022 تک پورے صوبہ پنجاب میں صحت انصاف کارڈ کا اجراء کردیا جائے گا۔ دسمبر تک پورے اسلام آباد کے شہریوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جائیں گے۔ سندھ حکومت  بھی صوبے میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا آغاز کرے ۔

اپوزیشن کو چیلنج

ان کا کہنا تھا کہ مافیاز چوری کیا گیا پیسہ واپس لائیں  وعدہ کرتا ہوں کہ مہنگائی نصف کردونگا۔

مہنگائی، معاشی مشکلات، حکومتی اقدامات

وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین کے شکرگزار ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ہم سے تعاون کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالرز کی کمی کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، پہلا ایک سال ملک کو مستحکم کرنے میں لگا،استحکام کے قریب تھے کہ سو سال کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران کورونا وبا کا سامنا کرنا پڑا۔

عمران خان نے کہا کہ صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کورونا کی عالمی وبا سے متاثر ہوئی،غریب ملک کورونا بحران سے سب سے زیادہ متاثرہوئے،مشکل مرحلے میں جس طرح ہم نے فیصلے کئے قابل تحسین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں کورونا کے دوران اسپتال مریضوں سے بھر گئے،بھارت میں صورتحال خراب ہوئی اور آکسیجن ناپید ہوگئی،ہم نے مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا  کیونکہ اس سے غریب سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے کورونا انتظامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ۔عالمی بنک ، عالمی ادارہ صحت ، ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کی تعریف کی۔ ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے  کورونا کو بہترین طور پر کنٹرول کیا۔اکانومسٹ نے پاکستان کو کورونا کا بہترین انتظام کرنے والا تیسرا ملک قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے کورونا کے دوران اپنی معیشت پر 4 ہزار ارب ڈالر خرچ کئے۔کورونا بحران کے دوران ہم نے لوگوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا۔ ہم نے زراعت کوبچایا اور کسی مرحلے پر اس شعبے کو بند نہیں ہونے دیا۔ ہم نے تعمیرات کے شعبے اور ملکی برآمدات کو بچایا۔ حکومتی اقدامات کے باعث آج چاول  کی پیداوار میں 13.6 فیصد ، مکئی 8 فیصد  اضافہ ہوا۔ حکومتی اقدامات کی بدولت گنا 22 فیصد اور گندم کی پیداوار میں 8فیصد اضافہ ہوا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں 81 فیصد اضافہ ہوا۔ زرعی شعبے میں 1100 ارب روپے کسانوں کو اضافی دیئے گئے۔ ملک میں ٹریکٹر کی ریکارڈ  فروخت  اور یوریا کھاد کی فروخت میں 23 فیصد اضافہ ہوا۔بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں  بھی ریکارڈ اضافہ ہوا۔انجینئرنگ شعبے  کے  منافع میں  ساڑھے 300 فیصد اضافہ ہوا، بجلی کے استعمال میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ٹیکس محصولات میں 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں اقتصادی اعشاریئے درست سمت کی  جانب گامزن ہیں۔ رواں سال آئی ٹی شعبے میں 75 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے صنعت کاروں اور فیکٹری مالکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیٹھ اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

عمران خان نے کہا کہ عالمی سطح پر 50 فیصد کے مقابلے میں ملک میں مہنگائی  کی شرح صرف 9 فیصد  ہے۔ترکی میں مہنگائی کی شرح 19 فیصد ہے۔امریکہ  میں 2008  کے بعد سب سے زیادہ مہنگائی ریکارڈ کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین میں 26 سال جبکہ جرمنی میں 50 سال کے بعد سب سے زیادہ مہنگائی آئی ہے۔امریکہ میں گیس کی قیمت 116 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں قیمتیں اس لئے بڑھ رہی ہیں کہ ہم باہر سے چیزیں منگوا رہے ہیں، فریٹ ریٹ میں ساڑھے تین سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں