افغانستان: غیر ملکی کرنسی کے استعمال پر پابندی عائد

پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات: عارضی جنگ بندی پر اتفاق

کابل: طالبان حکومت نے ملک میں غیر ملکی کرنسی کے ذریعے تجارت سمیت دیگر امور کی انجام دہی پر پابندی عائد کرید ہے۔

امریکہ کاافغانستان کے لیے14کروڑ ڈالر سےزائدامدادکا اعلان

ہم نیوز نے عالمی اور افغان ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے اعلان کردہ فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ترجمان طالبان تحریک ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس ضمن میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی کرنسی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

افغانستان اسمگلنگ کے باعث ڈالر کی قیمت بڑھی، فواد چودھری

ذبیح اللہ مجاہد کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اقتصادی صورتحال اور قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ تمام افغان شہری ہر قسم کی لین دین افغان کرنسی میں کریں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق افغانستان میں کئی امور امریکی ڈالرز میں انجام دیےجاتے ہیں جب کہ جنوبی علاقوں میں تجارت کے لیے پاکستانی کرنسی بھی استعمال کی جاتی ہے۔

افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہو گا، آرمی چیف

واضح رہے کہ عالمی ایجنسیاں کہہ چکی ہیں کہ افغانستان میں بدترین انسانی بحران جنم لے رہا ہے اور ملک کی نصف سے زائد آبادی غذائی قلت کا بھی شکار ہے۔

متعلقہ خبریں