سورج کی روشنی اور ہوا سے تیل بنانے والا سسٹم

سائنسدانوں نے ایک نیا نظام بنایا ہے جو سورج کی روشنی اور ہوا سے ایندھن بنا سکتا ہے۔ یہ نظام لیبارٹری کے اور مخصوص حالات کے بجائے عام حالات میں کام کر سکتا ہے۔

اس کا استعمال ہوا بازی اور جہاز رانی جیسے شعبوں میں کیا جاسکتا ہے لیکن  پہلے اس کی بڑے پیمانے پر پیدوار کیلئے اقدامات کرنے  ہوں گے۔

یہ نظام ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس سے پرواز اور جہاز رانی سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ہوا اور سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والا یہ ایندھن مٹی کے تیل یا ڈیزل کی طرح کام کرے گا۔ لیکن اس کو مصنوعی طور پر پانی، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور شمسی توانائی سے چل رہے ہیں۔

سائنسدانوں کو اس نظام کے انفرادی حصے بنانے میں کچھ کامیابی ملی ہے۔ لیکن ایسا سسٹم بنانا فی الحال بنانا بہت مشکل ہے جو حقیقی حالات میں قابل استعمال ہو۔

انجینئرز نے اس سسٹم کا ایک ورکنگ ورژن بنایا ہے جو تین ٹکڑوں پر مشتمل تھا۔ ایک ایئر کیپچر یونٹ جو ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی لیتا ہے۔

دوسرا سولر یونٹ جو شمسی توانائی کو حاصل کے اسے کاربن مونو آکسائیڈ اور آکسیجن کے مرکب میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔تیسرا حصہ اس گیس کو مائع بناتا ہے تاکہ اسے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

اگر اس نظام کو کافی بڑا بنایا جائے تو یہ ممکنہ طور پرمٹی کے تیل کی مانگ کو پورا کر سکتا ہے جو فی الحال ایوی ایشن اور شپنگ کے شعبے استعمال ہو رہا ہے۔

لیکن اس کے لیے بڑے پیداواری پلانٹس کی ضرورت ہوگی جو صحرائے صحارا کا تقریباً 0.5 فیصد ہو۔ اس ایندھن کی قیمت ابتدائی طور پر موجودہ مٹی کے تیل سے زیادہ ہوگی۔

متعلقہ خبریں