کرکٹ کا جنون، سامان تھا، نہ پیسے، محمد رضوان کی یادیں

محمد  رضوان، قومی کرکٹ ٹیم کا وہ نام، جنہوں نے نہ صرف اپنی کارکردگی سے شائقین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ کرکٹ ٹیم کا بھی ایک لازمی حصہ بن گئے، بچپن کی یادیں ہیں کہ پیچھا نہیں چھوڑتیں،کرکٹ کا جنون تھا مگر کھیلنے کا سامان تھا نہ کوئی پیسہ۔ ایک مرتبہ کرکٹ اسٹیڈیم دیکھنے چلے گئے مگر تھپڑ کھا کر واپس لوٹ گئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک انٹرویو میں محمد رضوان نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا، انہیں بچپن سے کرکٹ کھیلنے کا بے حد شوق تھا لیکن محدود وسائل کے باعث کرکٹ کا سامان خریدنے کی سکت نہ تھی۔

خاندان میں کوئی کرکٹ کو پسند نہیں کرتا تھا،بس  ان کے دادا نے ایک مرتبہ میچ دیکھنے کے لیے ٹیلی ویژن  لے کر دیا جو انہوں نے فروخت کر کے بلا اور گلوژ لے لیے۔

یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان: عظیم بلے بازوں محمد یوسف اور سچن ٹنڈولکر کی فہرست میں شامل

کروڑوں لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے والے محمد رضوان کے چچا نے انہیں مشکل وقت میں گھر پیش کر دیا تھا، اوپنر بلے باز نے بتایا کہ ان کے چچا نے پیش کش کی تھی کہ ضرورت پڑی تو وہ ان کے لیے اپنا گھر فروخت کر دیں گے۔

محمد رضوان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ ارباب رحیم اسٹیڈیم دیکھنے گئے مگر کوششوں کے باوجود انہیں گیٹ نہ ملا  اور مایوس لوٹ گئے۔

اگلی مرتبہ پھر دوستوں کو ساتھ لیا اور سٹیڈیم دیکھنے پہنچ گئے، گیٹ تو مل گیا مگر اندر جھانک  رہا تھا کہ گراونڈ مین آ گیا، اس نے پوچھا کہ کیا کررہے ہو یہاں؟ اسے بتایا کہ گراونڈ دیکھنے آیا ہوں تو اس نے پیچھے سے ایک تھپڑ مارا اور کہا کہ باہر ہو جاو، گراونڈ کے بچے۔

یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان: کیلنڈر ایئر میں 1000رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی

محمد رضوان نے اپنی یادیں تازہ کیں اور خوب انجوائے کرتے ہوئے بتایا کہ جب  تھپڑ پڑا تو ان کے دوست ہنس رہے تھے اور انہوں نے اس کا خوب مذاق بھی اڑایا۔

محمد رضوان وہ تھپڑ بھولے ہیں نہ ہی اس گراونڈ مین کو۔ اب ان کی خواہش ہے کہ ایک بار پھر اسی گراونڈ میں جائیں، گراونڈ مین کو تلاش کریں اور انہیں ایک جادو کی جپھی لگائیں اور ان سے خوب گپ شپ کریں۔

ایک سوال کے جواب میں محمد رضوان نے کہا کہ ان کے فین بہت خوش ہیں مگر ان کے دلوں میں محبت اللہ نے ڈالی ہے۔

مزید پڑھیں: محمد رضوان نے ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیا

محمد رضوان سے پوچھا گیا کہ وہ آج بھی پہلے کی طرح ہیں اور بالکل نہیں  بدلے؟ ان کا کہنا تھا کہ سٹار اور غریب  سب ایک ہیں، بس عزت کاخیال  رکھنا چاہیئے کہ جو سٹار ان کے سینے پر لگا ہوتا ہے اس پر کوئی داغ نہ آئے۔

محمد رضوان نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ ان کے والد نے آج تک ان سے ایک پیسہ تک نہیں لیا۔

محمد رضوان  اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کے بھی معترف نکلے اور  کہا کہ بابر  اعظم، احمد شہزاد ، عمر اکمل  اور محمد عامر خدادا صلاحیتوں کے مالک ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز