کے پی: حکومت و اینڈو کرائن سوسائٹی کا اشتراک، ذیابیطس سے بچاؤ کا قومی پروگرام شروع

کے پی: حکومت و اینڈو کرائن سوسائٹی کا اشتراک، ذیابیطس سے بچاؤ کا قومی پروگرام شروع

اسلام آباد: محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے تعاون سے ذیابطیس (شوگر) سے بچاؤ کا قومی پروگرام شروع کر دیا ہے.

کون سی غذائیں ذیابیطس کا سبب بنتی ہیں؟ 

ہم نیوز کے مطابق اس پروگرام کے تحت اسکولوں کے نصاب میں صحت کے اسباق شامل کیے جائیں گے جب کہ صوبائی سطح پر ذیابطیس سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی۔

اس ضمن میں اسپیشل سیکریٹری برائے صحت صوبہ خیبرپختونخوا ڈاکٹر فاروق جمیل، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ خیبرپختونخواہ ڈاکٹر نیاز محمد اور پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ابرار احمد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت اورپاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کی 19 ویں سالانہ کانفرنس کے اختتامی روز کیے گئے ہیں۔

سالانہ کانفرنس میں ملک بھر سے آئے ہوئے ماہرین امراض ذیابیطس اور اینڈوکرائن ڈیزیز نے شرکت کی جب کہ شرکائے کانفرنس سے بطور خاص پروفیسرعبد الباسط، پروفیسرجمال رضا، پروفیسر تسنیم احسن، ڈاکٹر ابرار احمد، ڈاکٹر زمان شیخ، پروفیسر ایچ عامر اور ڈاکٹر مسعود جاوید سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

پاکستان میں26 فیصد نوجوان ذیابیطس کا شکار

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ خیبرپختونخواہ ڈاکٹر نیاز محمد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اب ہم پانی پت کی لڑائیوں اور بے مقصد جنگوں کی تاریخ پڑھانے کے بجائے اپنے بچوں کو معاشرتی اصلاح کے اسباق پڑھائیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے ساتھ مل کر مضبوطی سے بچاؤ کے اسباق قومی نصاب میں شامل کریں گے تاکہ ہم اپنے بچوں کو موٹاپے، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے بچا سکیں۔

اسپیشل سیکریٹری صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر فاروق جمیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جو اس وقت اپنے صوبے کے تمام ذیابیطس کے مریضوں کو مفت انسولین اور ادویات فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت آئندہ سال سے ہر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اسپتال میں ذیابیطس کا کلینک قائم کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاج کے ساتھ ساتھ اب وقت آگیا ہے کہ بچاؤ پر بھی توجہ دی جائے اور اس سلسلے میں پاکستان اینڈوکرائین سوسائٹی کو محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں رسائی دی جارہی ہے۔

ڈاکٹر فاروق جمیل نے کہا کہ پاکستان اینڈوکرائین سوسائٹی کی مدد سے صوبے میں ذیابیطس اور دیگر کمیونیکیبل ڈیزیز جیسے امراض سے بچاؤ کے لیے اقدامات شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر صحت جو وزیر معاشیات بھی ہیں، صحت کے شعبے کے لیے بے تحاشہ فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے بھی جتنے فنڈ چاہئیں فراہم کیے جائیں گے۔

ہم نیوز کے مطابق پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ابرار احمد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذیابیطس کا علاج اب ڈاکٹروں کے بس سے باہر ہو چکا ہے اور اس مرض سے نمٹنا علاج کے ذریعے ممکن نہیں رہا ہے۔

نیند کی کمی کا ذیابیطس سے گہرا تعلق

انہوں نے کہا کہ پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی دوا ساز اداروں فارم ایوو، گیٹس فارما، سی سی ایل اور اسنوفی کے ساتھ مل کر پورے پاکستان میں ذیابیطس کے بچاؤ کے پروگرام شروع کر چکی ہے لیکن حکومتی مدد کے بغیر ان پروگراموں کا کامیاب ہونا بہت مشکل ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ آگے آئیں اور پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے ساتھ مل کر ذیابیطس سے بچاؤ کے پروگرام شروع کریں تاکہ ملک میں اس بڑھتی ہوئی وبا کو روکا جا سکے۔

معروف ماہر امراض ذیابیطس پروفیسرعبدالباسط نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ 30 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جب کہ پاکستان میں ایک کروڑ بچے موٹاپے کا بھی شکار ہیں جو کہ جلد یا بدیر اس مرض سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے آئندہ پانچ سالوں میں پاکستان کا تقریباً ہر فرد ذیابیطس میں مبتلا ہوچکا ہو گا جس کے بعد دنیا ہمیں بیمار قوم کے نام سے پکارا کرے گی۔

پروفیسر عبدالباسط نے صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کی تعریف کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ بھی جلد اس قومی بچاؤ پروگرام کا حصہ بن جائے گا جب کہ پنجاب اور بلوچستان کے صحت کے محکموں سے بات چیت جاری ہے جس کے بعد ذیابیطس سے بچاؤ کا قومی پروگرام پورے پاکستان میں شروع کر دیا جائے گا۔

ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد دگنی ہو گئی

ہم نیوز کے مطابق پاکستان اینڈوکرائین سوسائٹی اور فارما و رسالت فورم کے درمیان بھی ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت دوا ساز ادارے کا ریسرچ فورم ملک میں اینڈوکرائین ڈیزیز خاص طور پر ذیابیطس پر ریسرچ کے لیے نوجوان ڈاکٹروں اور تحقیق کاروں کو فنڈز فراہم کرے گا۔

متعلقہ خبریں