سندھ میں پھر لسانی فسادات کرانیکی کوشش کی جارہی ہے، سعید غنی

سندھ میں پھر لسانی فسادات کرانیکی کوشش کی جارہی ہے، سعید غنی

کراچی: سندھ کے وزیر اطلاعات و نشریات سعید غنی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں ایک مرتبہ پھر لسانی فسادات کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کراچی میں لگائے گئے بینرز کے کیا مقاصد ہیں؟

سندھ کے بلدیاتی قانون کو کالا قانون کہنے والوں کا منہ کالا ہو گا، بلاول

ہم نیوز کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات سعید غنی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ناراض دوست کون سے اختیارات مانگ رہے ہیں؟ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس موقع پر وقار مہدی اور شہلا رضا سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

سعید غنی نے کہا کہ 2018 میں سندھ حکومت کے پاس اختیار تھا کہ جسے چاہے واٹربورڈ کا چیئرمین لگائے۔ انہوں نے کہا کہ کچرہ اٹھانے کا اختیار 2021 میں بھی میئر کے پاس تھا جب کہ پراپرٹی ٹیکس ڈی ایم سی کے بجائے ٹاؤنز کے پاس جائے گا۔

پی پی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم نے 2013 والے بل میں اختیارات میں کمی نہیں کی بلکہ جو ترامیم بل میں کیں اس سے اختیارات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے کو عدالت کے کہنے پر الگ کیا گیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات سعید غنی نے کہا کہ ہم نے گورنرسندھ کی اکثر باتیں تسلیم کرلی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے بلدیاتی قانون پڑھا ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کسی کے بھی احتجاج سے پریشان نہیں ہے۔

کالا قانون عوام کی حق تلفی ہے، بلاول کی بوکھلاہٹ نظر آرہی ہے: عامر خان

ہم نیوز کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ نہیں چاہتے ہیں کہ کراچی میں حالات ایک بار پھر خراب ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بات وہ مانی جائے گی جو اکثریت میں ہو گی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ یہ کہنا کہاں سے غلط ہو گیا کہ اپوزیشن اقلیت میں ہے؟

سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور یہ سارے کس منہ سے کہتے ہیں کہ مسترد کردیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بار بار 2001 کے قانون کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

اسد عمر نے سندھ کے بلدیاتی نظام کو بدترین قرار دے دیا

ہم نیوز کے مطابق سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہے اور کراچی کے شہریوں نے پیپلزپارٹی کو سب سے زیادہ عزت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے پیپلزپارٹی کے پاس چار اور ایم کیو ایم کے پاس تین قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں۔

متعلقہ خبریں