پینڈورا پیپرز کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل

اسلام آباد: پینڈورا پیپرز کی تحقیقات آخری مرحلے میں داخل ہو گئیں۔

ذرائع کے مطابق جائزہ کمیشن نے پنڈورا پیپرز میں آنے والے240 ناموں میں سے اکثریت کی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور وزیر اعظم جائزہ کمیشن کو 200 سے زائد پاکستانیوں نے اپنے جواب جمع کرا دیے۔

240 پاکستانیوں میں سے اکثریت نے جواب میں منی لانڈرنگ کے الزمات کو مسترد کر دیا ہے جبکہ آئی سی آئی جے نے مبینہ 700 میں سے 240 نام وزیر اعظم جائزہ کمیشن کو دیے۔ جائزہ کمیشن کو موصول ہونے والے ناموں میں 40 پبلک آفس ہولڈرز، بیوروکریٹس اور دیگر حکام شامل ہیں۔

وزیر اعظم جائزہ کمیشن کے مطابق 240 ناموں میں سے زیادہ تر نے ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی نفی کی جبکہ آئی سی آئی جے کی جانب سے مزید نام بھیجوائے گئے تو ان کی بھی تحقیقات ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: انصاف و قانون کی حکمرانی سے قومیں ترقی کرتی ہیں، وزیر اعظم

ذرائع کے مطابق جائزہ کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا پہلا مرحلہ جنوری کے آخر تک مکمل ہونے کا امکان ہے اور جائزہ کمیشن کو اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، نادرا، پی ٹی اے اور ایف بی آر کی معاونت بھی حاصل ہے۔

جائزہ کمیشن 3 ماہ سے وزیر اعظم کے احکامات پر پینڈورا پیپرز میں شامل ناموں کی تحقیقات کر رہا ہے اور کمیشن نے 200 سے زائد پاکستانیوں سے 7 روز میں پوچھے گئے سوالات کے جواب مانگے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: مطالبے پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی، مریم نواز کے خلاف اپیل خارج

ذرائع کے مطابق کمیشن کو آئی سی آئی جے کی جانب سے نامکمل تفصیلات فراہم کی گئیں اور نامکمل تفصیلات کے باعث نادرا اور کمیشن کو لوگوں کے ناموں کی تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

240 ناموں میں سے 30 سے 35 ناموں کی تاحال تصدیق نہ ہو سکی۔ آئی سی آئی جے نے اکتوبر میں پینڈورا پیپرز میں 700 پاکستانیوں کے شامل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں