عمران خان فارن فنڈنگ جرم میں استعفیٰ دیں، سپریم کورٹ میں سماعت ہو: مریم نواز

کان کھول کر سن لو! بہت جلد تم سمیت تمہاری پوری سابق کابینہ پکڑی جائیگی، مریم نواز

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ نے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے۔ انہوں ںے زور دے کر کہا کہ جیسا سلوک ہمارے ساتھ ہوا، ویسا ہی عمران خان کے ساتھ ہونا چاہیے۔

پیسے کہاں سے آئے، کس نے بھیجے؟ تحریک انصاف سے جواب نہیں آیا، شاہد خاقان عباسی

ہم نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی عمران خان اورپی ٹی آئی کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس میں ہوش اڑا دینے والے حقائق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والے حقائق نے عمران خان کے چہرے پر جو بچھا کچھا نقاب تھا وہ بھی کھینچ دیا ہے اور پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا کو اس کا چہرہ واضح نظر آگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں جو انکشافات ہیں ان سے دماغ چکرا کر رہ گیا ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کے اندر کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاسی جماعت کے سربراہ اور کسی لیڈر کے خلاف اس قسم کے الزامات نہیں لگے ہیں لیکن یہاں تو ناقابل تردید ثبوت سامنے آئے ہیں۔

ن لیگ کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کمپنی سے فنڈنگ نہیں لی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے آدمی ہیں جنہوں نے رشوت کو ڈونیشن کا نام دیا۔

انہوں ںے کہا کہ نالائقی، نااہلی، کرپشن ،جھوٹ مار اور غیر قانونی فنڈنگ، یہ ہے آپ کا برینڈ۔ ان کا کہنا تھا کہ برینڈ کھل کر سامنے آچکا ہے اور اب انہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔

مریم نواز نے کہا کہ غیر قانونی فنڈنگ کے جرم میں عمران خان فوری طور پر استعفیٰ دیں اور روزآنہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف کیس چلنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی بی آر ٹی کا احتساب نہیں کرنے دیا جارہا ہے اور غیر ملکی تحائف لے کر کہا جا رہا ہے کہ جواب نہیں دوں گا جو کرنا ہے کرلو۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے مافیاز کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا اور آج تک وہ جھوٹ بولتے آ رہے ہیں۔

تحریک انصاف حکومت میں ملکی معیشت تباہ ہو گئی، بلاول بھٹو

انہوں نے الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پی ٹی آئی کے 26 اکاؤنٹس تھے، جن میں سے 18 اکاؤنٹس فعال تھے، اس میں سے صرف 4 اکاؤنٹ الیکشن کمیشن میں ڈیکلیئر کیے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے صرف جھوٹ نہیں بولا بلکہ تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی بھی پوری کوشش کی۔ انہوں ںے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں میں رپورٹ کا خیرمقدم کرتا ہوں اور چند وزرا کہتے ہیں سرخرو ہوئے، تو کس چیز میں سرخرو ہوئے؟ بھاگتے رہے ہیں۔

ن لیگ کی مرکزی نائب صدر نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں 7 سال تک طاقت، دھونس اور دھاندلی کا استعمال کیا اور کیس کو آگے بڑھنے سے روک دیا، پھر جب پتہ چل گیا کہ ناگزیر ہوگیا ہے اور حقائق سامنے آئیں گے تو رپورٹ ریلیز نہ کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر نے کہا کہ انہوں نے خود تلاشی تو دی نہیں، زبردستی تلاشی لی گئی تو بال بال چوری، جھوٹ اور سازش میں ڈوبا ہوا نکلا، پھر رپورٹ روکنے کے لیے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالے رکھا۔

مریم نواز نے کہا کہ آپ کو فارن فنڈنگ امریکہ، مشرق وسطیٰ، آسٹریلیا، کینیڈا، انگلینڈ سے ہوئی، اسی طرح پی ٹی آئی نے نے دو کمپنیاں ایک ٹیکساس اور ایک کیلیفورنیا میں 2010 اور 2013 کے درمیان میں قائم کیں اور عمران خان خود دونوں کمپنیوں کے چیئرمین تھے۔

انہوں نے کہا کہ پھر کچھ کمپنیاں آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی تھیں، یہ جو کچھ ہوا عمران خان کی مرضی اور ان کے کہنے پر ہوا کیونکہ وہ خود چیئرمین تھے۔

مریم نواز نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ذاتی 4 ملازمین کے نام پر غیرقانونی پیسے منگوائے، دفتر کے عملے کے نام پر غبن، دھوکے اور لوگوں سے اینٹھا ہوا پیسہ اوران کے اکاؤنٹس پر منگوایا۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے مرکزی دستخط کنندہ عمران خان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی سرٹیفکیٹس الیکشن کمیشن میں جمع کرائے اور حقائق چھپائے گئے، جھوٹ بولا اور آج تک جھوٹ بولتے آرہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آپ نے کس سے، کس ملک سے، کس غیرملکی کمپنی سے پیسے لیے اور غیرقانونی فارن فنڈنگ کی؟ اس کی وضاحت نہیں کی۔

پاکستان دنیا کا چوتھا مہنگا ملک بن گیا، عمران خان معافی مانگیں: شازیہ مری

ہم نیوز کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگ کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کا قانون کہتا ہے کوئی جماعت فارن فنڈنگ نہیں لے سکتی اور کوئی جماعت فنڈ لیتی ہے تو اس جماعت کوکالعدم قرار دیا جاتا ہے اور تحلیل کردیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں