سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، عمران خان استعفیٰ دیں: شہباز شریف

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

جوائنٹ ایکشن پلان کیوں تیار نہیں کیا گیا؟ تحقیقاتی کمیٹی کے ٹی او آرز

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ مطالبہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنا کر ذمہ داران کو سامنے لا یا جائے۔

میاں شہباز شریف نے کہا کہ مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مرتے رہے مگر 20 گھنٹوں تک کسی نے نہیں پوچھا جب کہ ایک نیرو سانحے کے وقت اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی آڑ میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ مری میں کوئی انتظام نہیں تھا، ٹریفک پولیس بھی موجود نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ برف ہٹانے کا کام سی اینڈ ڈبلیو والوں کا ہے لیکن وہ بھی موجود نہیں تھے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں استفسار کیا کہ مری میں سیاحوں کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے؟ محکمہ موسمیات کے الرٹ کے باوجود انتظامات کیوں نہیں کیے گئے تھے؟ اگر رش بے پناہ تھا تو سیاحوں کو جانے سے روکنے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے؟

سانحہ مری: جاں بحق اے ایس آئی اور اہل خانہ کی نماز جنازہ ادا

میاں شہباز شریف نے کہا کہ ہم یہاں خودنمائی کے لیے نہیں بلکہ اس سانحہ پر بات کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مری میں پہلی بار تو برف نہیں پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر محترم نے کہا، شاندار سیاحت چل رہی ہے، لاکھوں گاڑیاں مری جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ ذمہ دار تھی تو آپ استعفیٰ دے کر گھر جائیں، یہ لوگ غفلت کی نیند سو رہے تھے۔

ن لیگ کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے ملک کی معیشت کو برباد کیا، لوگوں کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا، لوگوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا اور لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے زمانے میں ایسے مواقع پرایڈوانس میٹنگز ہوتی تھیں، موجودہ حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 23 لوگوں کا قتل حکومت وقت کے سر پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ مری نا اہلی کا فعل تھا جس کی معافی نہیں ہے۔

میاں شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان استعفیٰ دے کرگھرجائیں ورنہ قوم آپ کوگھسیٹ کرباہر کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صرف گالم گلوچ اوراپوزیشن پر تنقید آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا ہے جب کہ حکومت نے سرکاری افسران کی کمیٹی بنا دی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا تھا کہ سانحہ مری حادثہ نہیں مجرمانہ غفلت ہے۔

کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا استفسار

میاں شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ مری پر پوری قوم افسردہ اور غم میں مبتلا ہے۔

انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ اس سے بڑھ کر انتظامیہ کی غفلت اور کیا ہو سکتی ہے؟

تحقیقاتی رپورٹ: حکومتی مشینری نہیں تھی، انتظامیہ طوفان تھمنے کے بعد حرکت میں آئی

ہم نیوز کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سانحے کا پورا احتساب ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں