ماضی میں مری پر وسائل خرچ کیے ہوتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے، فواد چودھری

مدرسے کے بچوں اور قیمے والے نانوں سے جلسے نہیں ہوتے، فواد چودھری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ میرا خیال تھا کہ شہباز شریف لیڈر کی طرح خطاب کریں گے اور ایسی بات ہو گی جس سے یکجہتی کی فضا قائم ہو گی لیکن لیڈر پیدا ہوتے ہیں بنائے نہیں جاتے۔

سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، عمران خان استعفیٰ دیں: شہباز شریف

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر فواد چودھری نے جیسے ہی تقریر شروع کی تو اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کردیا۔

وفاقی وزیر فواد چودھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ 30 سال ان لوگوں نے حکومتیں کیں اورآج یہ ہم سے سوال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے محلات کے بجائے مری پر وسائل خرچ کیے ہوتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حیثیت نہیں ہے یہ بات کرنے کی۔

اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھوٹے دل کے لوگ بڑے ہال میں آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مری کے واقعے پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک بھی ایم این اے مری نہیں گیا۔

بلاول بھٹو نے بھی سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ جب اپوزیشن لیڈر وزیراعلیٰ تھے تو ہر روز ایک نیا واقعہ ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 100 بچے ایک اسپتال میں آکسیجن کی کمی سے مارے گئے تھے جب کہ ماڈل ٹاؤن میں گولیاں چلیں تو انہیں ٹی وی سے معلوم ہوا تھا۔

فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان کےاداروں نے مل کرامدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور صرف 24 گھنٹے کے اندر ریسکیو کی کوشش کامیاب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے اس واقعہ پر کمیٹی بھی بنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مری میں 5 دن میں 1 لاکھ 64 ہزار گاڑیاں داخل ہوئی تھیں۔

تحقیقاتی رپورٹ: حکومتی مشینری نہیں تھی، انتظامیہ طوفان تھمنے کے بعد حرکت میں آئی

ہم نیوز کے مطابق قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نے پاکستان میں پہلی بار ماحول پر توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں اندرونی سیاحت کا انقلاب برپا ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں