کورونا، دیگر اقسام کی نسبت اومیکرون زیادہ تیزی سے کیوں پھیلتا ہے؟

کورونا، دیگر اقسام کی نسبت اومیکرون زیادہ تیزی سے کیوں پھیلتا ہے؟

جوہانسبرگ: عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون نے اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جب کہ سائنسدان اس لحاظ سے ازحد پریشان ہیں کہ کورونا کی یہ قسم دیگر اقسام کی نسبت بہت زیادہ تیزی سے کیوں پھیلتی ہے؟

اومیکرون: خصوصی ویکسین کا ٹرائل ماہ رواں میں شروع کرنیکا اعلان

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق تمام دنیا کے ماہرین، سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کو سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال کا جواب کسی حد تک ہونے والے دو کلینیکل ٹرائلز نے دیا ہے۔ دونوں ٹرائلز جنوبی افریقہ میں کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ایجسنی کے مطابق ایک تحقیق دسمبر 2021 میں اس وقت ہوئی تھی جب جنوبی افریقہ میں اومیکرون کے کیسز بڑھنا شروع ہوئے تھے جبکہ دوسری تحقیق بھی تقریباً اسی وقت شروع کی گئی تھی۔

تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ کورونا کی دیگر اقسام کی نسبت اومیکرون زیادہ تیزی سے کیونکر پھیلتا ہے؟

اس حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق میں موڈرنا کووڈ 19 ویکسین کی افادیت کی جانچ پڑتال ایچ آئی وی کے شکار افراد میں کی گئی تھی۔

تحقیق میں شامل 230 میں سے 31 فیصد یا 56 میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی حالانکہ ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں لیکن جینیاتی سیکونس سے معلوم ہوا کہ وہ سب اومیکرون سے متاثر تھے۔

دوسری تحقیق جانسن اینڈ جانسن کی کووڈ 19 کی افادیت جانچنے کے لیے کی جارہی تھی۔

کورونا کی ایک اور نئی قسم ڈیلٹا کرون دریافت

اس کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا کہ اومیکرون کی لہر کے دوران بنا علامات والے کیسز کی شرح 16 فیصد تک پہنچ گئی جو بیٹا اور ڈیلٹا لہروں کے دوران صرف 2.6 فیصد رہی تھی۔ واضح رہے کہ اس تحقیق میں 577 افراد شامل تھے جن کی ویکسینیشن ہوچکی تھی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق بنا علامات والے کیسز ہی ممکنہ طور پر اومیکرون کے بڑے پیمانے پر پھییلانے کا بنیادی عنصر ہیں۔

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کی تمام تر خصوصیات میں سب سے حیران کن خاصیت یہی ہے کہ بظاہر صحت مند افراد بھی اسے آگے تک پھیلا دیتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس کی روک تھام بہت مشکل ہوتی ہے جب کہ ایسے افراد کی شناخت اور انہیں دوسروں سے علیحدہ کرنا بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔

تحقیق کے تحت کئی افراد اس لحاظ سے متعدی بھی قرار دیے جاتے ہیں کونکہ وہ بڑی آسانی سے وائرس کو دیگر افراد تک منتقل کردیتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وائرس کو منتقل کرنے والے افراد بسا اوقات اس وقت ایسا کرتے ہیں جب کہ انہیں خود بھی علم نہیں ہوتا ہے کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ہوشیار: ڈیلٹا اور اومیکرون کے بعد کورونا کی نئی قسم آئی ایچ یو دریافت

ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بنا علامات والے افراد شروع میں خود کو متاثر یا بیمار بھی محسوس نہیں کرتے ہیں اور بڑی آسانی سے وائرس دوسروں تک منتقل کردیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں