سانحہ مری: پوری ریاست ذمہ دار، ہائی کورٹ کی وزیراعظم کو ایک ہفتے میں کارروائی کی ہدایت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ مری کا ذمہ دارپوری ریاست کوقرار دے دیا، عدالت نے حکم دیا ہے کہ وزیراعظم نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیشن کا اجلاس آئندہ ہفتے بلا کرذمہ داروں کےخلاف کارروائی کریں، 21 جنوری تک رپورٹ جمع کرائی جائے۔

چیف جسٹس نے ممبر این ڈی ایم اے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دوسروں پر نہ ڈالیں، قانون کا نفاذ این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی، جو بھی یہاں آتا ہے کہتا ہے قانون کو چھوڑ دیں۔

دوران سماعت عدالت کی طلبی پرممبراین ڈی ایم اے پیش ہوئے اور این ڈی ایم اے قانون پڑھ کرسنایا۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ امید ہے آپ نے این ڈی ایم اے کا قانون پڑھا ہو گا۔ یہ تعین کر لیں کہ جو 22 لوگ جاں بحق ہوئے ان کا ذمہ دار کون ہے، تیاری اور اقدامات ہوتے تو 22 لوگوں اور بچوں کی جانیں نہ جاتیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ مری میں ہوٹلوں کو بدنام کرنا سازش ہے، ہوٹل ایسوسی ایشن

چیف جسٹس کے استفسار پرممبراین ڈی ایم اے نے بتایا کہ کمیشن کی 2007 سے 2018 تک 5 میٹنگز ہوئی تھیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا اس سے زیادہ طاقتور کوئی باڈی ہو سکتی ہے، قانون موجود ہے، عملدرآمد ہوتا تو ایک جان بھی ضائع نہ ہوتی۔

یہ اتنا زبردست قانون ہے کہ ہر ضلع تک ذمہ داری ڈالتا ہے، میٹنگز نہ ہونا این ڈی ایم اےکی ناکامی ہے۔ آپ اس حادثے کے ذمہ دار ہیں، کیا اس عدالت سے فیصلہ چاہتے ہیں، این ڈی ایم اے قانون میں موجود تمام لوگ ان ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی زیادہ وقت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا معاملہ ہے۔ اس دوران کوئی اورسانحہ ہوگیا توذمہ دارکون ہوگا، نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیشن ذمہ داروں کا تعین کر کے رپورٹ 21 جنوری تک جمع کرائے۔

متعلقہ خبریں