لاہور: نیو انار کلی بازار میں دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، 29 زخمی

لاہور: نیو انارکلی بازار میں ہونے والے دھماکے سے بچے سمیت تین افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہو گئے ہیں۔

صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر داخلہ سمیت دیگر کی لاہور دھماکے کی مذمت

ہم نیوز کے مطابق دھماکے کے باعث پہلے دو افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے تھے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ زخمیوں کی تعداد کی تصدیق اسپتال کے ایم ایس نے بھی کی تھی۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سمیت امدادی اداروں کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی تھیں۔

اسپتال کے ذمہ دار ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ دھماکے کے ایک زخمی نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا ہے جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

ہم نیوز نے اسپتال ذرائع سے بتایا ہے کہ جان کی بازی ہارنے والے زخمی کی شناخت 18 سالہ یاسر کے نام سے کی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے نقصان کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے میں انسانوں جانوں کے نقصان کے علاوہ 6 موٹرسائیکلیں بھی تباہ ہوئی ہیں جب کہ اردگرد کی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے باعث اطراف میں کھڑی گاڑیوں میں آگ بھی لگ گئی تھی۔

سی سی پی او لاہور نے پولیس کو ریسکیو کارروائیوں میں مدد دینے کی ہدایت کی ہے جب کہ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگایا جا رہا ہے اور شواہد اکھٹے کر رہے ہیں۔

میئو اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر افتخار نے زخمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انارکلی دھماکے کے 28 زخمیوں کو میئو اسپتال لایا گیا ہے۔ زخمیوں کی آمد کے ساتھ ہی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق دو زخمیوں کو دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

کراچی دھماکہ، رکن قومی اسمبلی کے والد بھی جاں بحق

انہوں نے زخمی افراد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 5 زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے تاہم انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور دھماکے کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے اور زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے لاہور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور دھماکے سے قیمتی جانی نقصان پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے بعد لاہور میں دہشت گردی ملک کے لیے نیک فال نہیں۔

سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے دھماکے کا مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لائے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پر رحم فرمائے۔ آمین۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی لاہور بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت زخمیوں کے فوری بہتر علاج و معالجے کے لیے اقدامات کرے۔

افغانستان میں اسکول کے سامنے دھماکہ، 9 بچے جاں بحق، 4 زخمی

انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا عفریت قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور عمران خان میں اہلیت نہیں کہ وہ کسی بحران کو حل کر سکیں۔

متعلقہ خبریں