یہ بھارت ہے! ہائیکورٹ نے طالبات کو حجاب اور مذہبی لباس پہننے سے روک دیا

مسکان خان کو جاپانی تنظیم کا اسکالر شپ دینے کا اعلان

کرناٹک: بھارتی ہائی کورٹ نے طالبات سے کہا ہے کہ وہ حجاب کا مسئلہ حل ہونے تک مذہبی چیزیں پہننے پر اصرار نہ کریں۔ ہائی کورٹ نے طالبات کو حجاب اور مذہبی لباس پہننے سے روک دیا ہے۔

بھارت میں اینٹی حجاب مہم: تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع کا عندیہ

ہم نیوز نے بھارت کے مؤقر انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس اور این ڈی ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت کی ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے کیس میں ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ حجاب کا مسئلہ حل ہونے تک طالبات مذہبی چیزیں پہننے پر اصرار نہ کریں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

مسلمان طالبہ کے ساتھ ہونیوالا سلوک بھارتی مستقبل کے لیے کیسا اشارہ ہے؟ امریکی دانشور

دوران سماعت ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ طالبات کو معاملہ حل ہونے تک مذہبی چیزیں نہیں پہننا چاہئیں۔ تین رکنی بینچ نے دوران سماعت یہ بھی کہا کہ کرناٹک میں اسکولوں اور کالجوں کو دوبارہ کھولنےکے لیے حکم جاری کیا جائے گا۔ سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ باحجاب طالبات کوکالجوں اور اسکولوں میں داخلے سے روکنے پر عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

حجاب پر پابندی کے خلاف کیس: بھارتی سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

گذشتہ روز سنگل بینچ نے معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے معاملہ سماعت کے لیے لارجر بینچ کو بھیج دیا تھا۔

متعلقہ خبریں