حجاب تنازع:ہیما مالنی انتہاپسندوں کی زبان بولنے لگیں

 بھارتی ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے تنازع  پر ہیما مالنی بھی انتہا پسندوں کی بولی بولنے لگیں۔

بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ و سیاستدان ہیما مالنی نے کہا کہ اسکول تعلیم کے لیے ہیں اور وہاں مذہبی معاملات کو نہیں لے جانا چاہیے۔

ہیما مالنی نے کہا کہ ہر اسکول  کا یونیفارم ہوتا ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے آپ اسکول کے باہر جو چاہیں پہن سکتے ہیں حجاب کرنا ہے تو تعلیمی اداروں کے باہر کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ کرناٹک ایک اسکول میں حجاب پر پابندی لگائی گئی تھی جس کے بعد پابندی کاسلسلہ دوسرے اسکولوں اور کالجوں تک پھیل گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پگڑی پہن سکتے ہیں تو حجاب کیوں نہیں؟ سونم کپور کے سوال پر انتہا پسند مشتعل

حجاب پر پابندی کو لے کر مسلم طالبات نے شدید احتجاج کیا اور اس پابندی کو مسلم دشمنی قرار دیا تھا۔

مسلم طالبات کے آواز اٹھانے پر انتہا پسند ہندوتنظیموں نے پابندی کے حق میں مظاہرے کیے، تعلیمی اداروں کی انتظامیہ پر دباو ڈالا اور طالبات کوحراساں کیا گیا۔

تنازع شدت اختیار کرنے بعد سے معاملہ کرناٹک ہائیکورٹ میں زیر غور ہے جبکہ  بھارت سپریم کورٹ نے معاملے پر سماعت کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

متعلقہ خبریں