وزیر خزانہ نے فارما ایسوسی ایشن کے تحفظات دور کرنیکی یقین دہانی کرا دی

وزیر خزانہ نے فارما ایسوسی ایشن کے تحفظات دور کرنیکی یقین دہانی کرادی

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے فارما ایسوسی ایشن کے تمام تحفظات کو جلد از جلد دور کرنے کی یقنی دہانی کراتے ہوئے ادویات ساز اداروں کے تعاون کو سراہا ہے۔

سیلز ٹیکس عائد ہوا تو ادویات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں گی، فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز

ہم نیوز کے مطابق شوکت ترین نے یہ یقین دہانی پاکستان فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین کی سربراہی میں ملاقات کرنے والے وفد کو کرائی۔

چیئرمین پی پی ایم اے نے اپنے وفد کے ہمراہ دوران ملاقات فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز کو درپیش مسائل سے وفاقی وزیر خزانہ کو آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے وفد کو تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر ) سے کہا کہ فارماسیو ٹیکل انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ تقریباً دو ماہ قبل پی پی ایم اے کے چیئرمین  قاضی محمد منصور نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے خام مال پر سیلز ٹیکس لاگو کیا تو ادویات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔

یہ انتباہ پی پی ایم اے کے چیئرمین قاضی محمد منصور دلاور نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاری کیا تھا۔

ادویات کی قیمتوں میں تین سالوں کے دوران تسلسل کے ساتھ اضافہ

قاضی محمد منصور دلاور نے کہا تھا کہ فارماسیوٹیکل میں 90 فیصد لوکل پروڈکشن ہو رہی ہے لیکن 90 فیصد سے زائد خام مال درآمد (امپورٹ) کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ خام مال صرف 10 فیصد یہاں پروڈیوس ہو رہا ہے۔

چیئرمین پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے ادوایات اور خام مال پر سیلز ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہو گا تو ہمیں ادوایات کی قیمتوں کو بڑھانا پڑے گا۔

انہوں نے اس ضمن میں حکومت سے اپیل کی تھی کہ ہمارے خام مال پر ٹیکس نہ لگایا جائے وگرنہ ٹیکس لگنے سے نہ صرف ادویات مہنگی ہوں گی بلکہ ان کی قلت کا بھی خدشہ ہے۔

چیئرمین نے دعویٰ کیا تھا کہ پورے ریجن میں ادوایات کی قیمتیں سب سے کم پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 15 سالوں سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔

تین ادویات کے فارمولوں میں تبدیلی کی منظوری

قاضی محمد منصور دلاور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قیام پاکستان کے وقت 90 فیصد انٹرنیشنل مینو فیکچرنگ تھی جب کہ اس وقت 71 فیصد کمپنیاں لوکل مینو فیکچرنگ کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں