جمہوریت سمیت 18 ویں ترمیم خطرے میں ہے، بلاول بھٹو

جمہوریت سمیت 18 ویں ترمیم خطرے میں ہے، بلاول بھٹو

پشاور: چیئر مین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریت سمیت 18 ویں ترمیم خطرے میں ہے۔

آصف زرداری اور شہباز شریف کے درمیان ایک اور ملاقات طے

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بات عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ایمل ولی خان سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

بلاول بھٹو نے اس موقع پر کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک تاریخ ہے اور دونوں جماعتوں کے کارکنان نے جمہوریت کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کر بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ہم نے 1973 کے آئین کو بحال کیا ہے، این ایف سی ایوارڈ کی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے صدر ہوتے ہوئے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کرخیبر پختونخوا کا نام لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تاریخی کامیابیوں سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں خوشخبری دوں گا، آپ نے گھبرانا نہیں ہے: وزیراعظم

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب دہشتگردی عروج پر تھی تو ہمارے کارکنان نے صف اول کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ
ایمل ولی خان سے رابطے میں رہتا ہوں، یہ مجھے ایڈوائس دیتے رہتے ہیں۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ اس وقت ملک مشکل میں ہے اور معاشی بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف مارچ کے لیے سب سے پہلے ایمل ولی نے حمایت کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری جدوجہد کامیاب ہو گی اورنالائق وزیراعظم سے حساب لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں بھی حکومت وقت کو کھلا نہیں چھوڑا اور کامیابی حاصل کی تاہم انہوں ںے تسلیم کیا کہ عدم اعتماد میں ان کی تھوڑی بہت اکثریت ہمارے لیے چیلنج ہے لیکن ہم عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور محنت کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر نہ کوئی ٹیکس ہے اور نہ ہی کوئی پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی خوبصورتی ہے کہ ہم نے ایک بار جیتنا ہے اور عمران گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہم نہ جیتے تو بھی گھر نہیں بیٹھیں گے واپس آکر پھر سے حملہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو نظر آئے گا کہ کون سلیکٹڈ کے ساتھ کھڑا ہے اورکون عوام کے ساتھ کھڑا ہے؟

 آئی ایم ایف سے معاہدے ن لیگ اور پی پی نے کیے،غیرت کا درس ہمیں دے رہے ہیں: اسد عمر

چیئرمین پی پی نے واضح طور پر کہا کہ اگر سب نیوٹرل رہے تو کامیابی کا زیادہ امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر محنت نہیں کریں گے تو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میں شروع سے اب تک اپنے مؤقف پر قائم ہوں،
اپوزیشن ایک پیج پر ہے۔ انہوں ںے کہا کہ حکومت کے ناراض اتحادیوں کو بھی ایک پیج پر لانا پڑے گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر فورم پر حکومت کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر امید ہیں کہ ساری اپوزیشن جماعتیں ناراض اراکین کے ساتھ ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ڈیمز پی پی نے بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کا فائدہ صرف ایک صوبے کو ہو گا۔

ہم نیوز کے مطابق اس موقع پر اے این پیہ کےمرکزی رہنما ایمل ولی خان نے واضح طور پر کہا کہ کالاباغ ڈیم ایک تاریخ ہے اور یہ ہمارے لیے زندگی اورموت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرملک کو بچانا ہے تو کالاباغ ڈیم نہیں بنے گا۔

عدم اعتماد نہ لانے کے خواہشمند ہمارا مؤقف دہرا رہے، بلاول بھٹو

ہم نیوز کے مطابق ذرائع ا بلاغ سے بات چیت میں بلاول بھٹو نے کہا کہ فون کالز سے متعلق میرے پاس یا میری جماعت کے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی جماعت کو مسئلہ پیش آ رہا ہے تو ملاقات میں پوچھوں گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن مل جائے تو عدم اعتماد کامیاب کرانا بڑی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کس نے کہاں کس کو دھوکہ دیا؟ اس تک ہم جانا نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی یہ نہیں کہوں گا کہ نوجوانوں آپ سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو بڑے خطرے کا سامنا ہے، سب کو ایک ہو کر اس سے نمٹنا ہو گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور عمران خان کا معاشی بحران امن و امان کی صورتحال پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے صوبے کی پولیس اور وزیراعلیٰ پر بھرپور اعتماد ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ علی وزیر ایک ایم این اے ہے اور ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ
علی وزیر اور ان کے ساتھیوں کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو پہلا کیس کیا گیا تھا اس میں خود میں نے علی وزیر کے لیے وکیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ علی وزیر کی رہائی کے لیے سب سے پہلے میں نے مطالبہ کیا۔

پیکا آرڈیننس مسترد، 35 پنکچر سے بڑی فیک نیوز ہے؟ پلوشہ خان کا استفسار

ہم نیوز کے مطابق چیئیرمین پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ جیل میں جو کچھ ممکن ہے وہ سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت ہوتے ہوئے اپنے اسپیکر کو جیل سے نہیں نکال سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرعلی وزیر زیادہ جذباتی ہو گئے تھے تو انہیں معاف کر دینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں