امریکیوں کو جوہری جنگ کی فکر نہیں کرنی چاہیے ، جو بائیڈن

یوکرین پر روس کے حملے پر مغربی انتقامی کارروائیوں کے درمیان ماسکو کی جانب سے اپنے جوہری ڈیٹرنٹ کو ہائی الرٹ پر رکھنے کے بعد امریکی صدر کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو جوہری جنگ کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔

وائٹ ہاؤس میں تقریب کے دوران صدر جو بائیڈن سے صحافی نے سوال پوچھا تھا کہ کیا امریکیوں کو ممکنہ ایٹمی جنگ سے فکر مند ہونا چاہیے یا نہیں جس پر انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ نہیں۔

وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس وقت اپنے جوہری الرٹ کی سطح کو تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ تائیکوانڈو فیڈریشن نے روسی صدر سے اعزازی بلیک بیلٹ واپس لے لی

یاد رہے کچھ روز قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ملکی جوہری ہتھیاروں کا کھل کر نام لیے بغیر انہیں خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دے دیا تھا۔ انہوں نے اس کے لیے ’ڈیٹیرنٹ ہتھیاروں‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے جارحانہ بیانات کے تناظر میں وہ ملکی وزیر دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف کو کہتے ہیں کہ وہ روسی فوج کی ’ڈیٹیرنٹ فورسز‘ کو خصوصی الرٹ کی سطح پر رکھیں۔

یاد رہے یوکرین نے روسی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ روس کے خلاف درخواست جمع کرانے کے بعد یوکرین کے صدر زیلینسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت روس کو فوری طور پر حملے روکنے کا حکم دے گی۔

 

متعلقہ خبریں