روس یوکرین جنگ: امریکہ اور پرانے اتحادیوں کے تعلقات میں دراڑ کا سبب بن گئی؟

روس یوکرین جنگ: امریکہ اور پرانے اتحادیوں کے تعلقات میں دراڑ کا سبب بن گئی؟

واشنگٹن: روس یوکرین جنگ کی وجہ سے امریکہ اور اس کے پرانے اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں دراڑیں پیدا ہو گئی ہیں۔

روس یوکرین جنگ کے اثرات؟ روسی شہری چینی کیلئے آپس میں لڑ پڑے

تعلقات میں یہ دراڑیں عین اس وقت پیدا ہوئی ہیں جب امریکی صدر زیادہ سے زیادہ ممالک کو روس کی جانب سے یوکرین میں شروع کی جانے والی جنگ کے خلاف متحد و یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہم نیوز نے مؤقر نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے باعث امریکہ اور اس کے اتحادیوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قائم تعلقات میں دراڑیں پیدا ہو گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ اس وقت ایک عالمی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش میں مصروف ہے جو دراصل روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے اعلان کردہ ’وار آف چوائس‘ کے خلاف ہو لیکن حیرت انگیز طور پر امریکہ اور اس کے پرانے اتحادیوں کے مابین تعلقات میں دراڑیں دکھائی دینے لگی ہیں۔

اس سلسلے میں شام کے صدر بشار الاسد کے دورہ یو اے ای کی مثال دی گئی ہے جو گزشتہ ہفتے ہوا حالانکہ دمشق کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے حوالے سے واشنگٹن ماضی میں کئی مرتبہ واضح طور پر متنبہ بھی کرچکا ہے۔

واضح ہے کہ شام جنگ کی ابتدا کے بعد سے صدر بشار الاسد کا دورہ یو اے ای کسی بھی عرب ملک کا پہلا دورہ ہے جو 2011 کے بعد ہوا ہے۔

ٹرمپ نے شامی صدر بشارالاسد کو قتل کرانیکی بات کی تھی، سابق مشیر

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد نے واضح طور پر یوکرین پہ روسی حملے کی مکمل حمایت کی ہے۔ انہوں نے اپنی اعلان کردہ حمایت کا اعادہ ابھی گزشتہ دنوں بھی کیا ہے۔

عالمی سیاسی مبصرین کے مطابق سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کی سب سے بڑی ناکامی ہی بشار الاسد کا اپنے منصب پہ فائز رہنا تھا اور ایسا اس لیے ممکن ہو سکا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ان کی کھل کر امریکہ کے خلاف حمایت کی تھی اوربھرپورمدد بھی فراہم کی تھی۔

امریکہ کے موجودہ صدر جوبائیڈن اوران کی انتظامیہ کو بارک اوبامہ انتظامیہ کا تسلسل ہی گردانا جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر افراد سابق امریکی انتظامیہ کا حصہ رہے ہیں۔

میڈیا میں شائع شدہ رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بشار الاسد کو قتل کرانے کی بات کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں قائم  جیو پولیٹیکل رسک کنسلٹنسی کے سی ای او جارجیو کیفیرو کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ یوکرین پر حملے کی مذمت کے لیے بلائی گئی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سے جب اس خلیجی عرب ملک نے دور رہنا مناسب سمجھا اور اس کے فوراً بعد بشارالاسد نے یو اے ای کا دورہ کیا تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امارات اپنی خود مختاری کے حوالے سے بہت زیادہ سنجیدہ ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جب یوکرین کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجویز سے ابوظبی غیر حاضر رہا تھا۔ سلامتی کونسل کا اجلاس امریکی ایما پر بلایا گیا تھا۔

روس سے تیل خریدنا بھارت کو تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا کر دے گا، امریکہ کی تنبیہہ

امریکہ کے مؤقر اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی گزشتہ ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بیجنگ کے ساتھ تیل کے لین دین کے لیے سعودی عرب یوآن کے حق میں امریکی ڈالرز سے جان چھڑانے کی خاطر چین کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں