تحریک عدم اعتماد: اپوزیشن کے 172 ارکان ایوان میں موجود، اجلاس 3 اپریل تک ملتوی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 3 اپریل کو ہو گی۔ اپوزیشن کے 172 ارکان ایوان میں موجود تھے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن اراکین نے ووٹنگ کب کرانے کا ہی سوال کیا اور کوئی دوسرا سوال کرنے سے انکار کر دیا۔

اپوزیشن لیڈر سمیت اپوزیشن کے 172 ارکان ایوان میں موجود تھے اور اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ ہم اپنے سوال مؤخر کر رہے ہیں۔ آپ یہ بتائیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی۔ طاہرہ اورنگزیب، مریم اورنگزیب نے بھی ووٹنگ کب  کرانے کا سوال کیا۔

اپوزیشن رکن روحیل اصغر نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروا دیں تاکہ آپ کی بھی جان چھوٹ جائے۔

ایوان میں حکومتی اراکین کی جانب سے شور شرابا کیا گیا اور خالد مگسی کے خلاف لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے گئے۔ بی اے پی کے رکن خالد مگسی لوٹا لوٹا کے نعرے لگنے کے بعد حکومتی نشستوں پر پہنچے لیکن وزیر دفاع پرویز خٹک نے خالد مگسی کو روکا اور واپس بھیج دیا۔

ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اراکین سوالات کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے اس لیے ایوان کی کارروائی ملتوی کی جاتی ہے۔ جس کے بعد انہوں نے اجلاس کی کارروائی 3 اپریل بروز اتوار دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

تین روز کے وقفے کے بعد ہونے والے اجلاس میں آج وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث کا آغاز ہونا تھا۔

آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد 7 دن میں ووٹنگ کرانا لازمی ہے اور اتوار کو ووٹنگ کرانے کا آخری روز ہے۔

واضح رہے  کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سےجمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان  ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اس لیے اب وہ وزرات عظمیٰ پر فائز نہیں رہ سکتے۔

حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے ساتھ چھوڑنے کے بعد  قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اکثریت کھو چکے ہیں۔ نمبر گیم کے مطابق قومی اسمبلی میں اب حکومتی ارکان کی تعداد 142 رہ گئی  ہے۔  ان میں پی ٹی آئی کے 133، ق لیگ کے 4، جی ڈی اے کے 3، بی اے پی کا 1 اور عوامی مسلم لیگ کا 1 رکن شامل ہے۔

 

متعلقہ خبریں