پی ٹی آئی کےمنحرف اراکین اسمبلی کیخلاف سخت کارروائی کا آغاز

پی ٹی آئی کےمنحرف اراکین اسمبلی کیخلاف سخت کارروائی کا آغاز

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ کارروائی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر کی جا رہی ہے۔

دھمکی آمیز خط میں کوئی صداقت نہیں، امریکی محکمہ خارجہ

ہم نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے صلاح و مشورہ کرنے مشیر پارلیمانی امور اور ممتاز قانون دان بابر اعوان پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ گئے جہاں انہوں ںے پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری اور رکن قومی اسمبلی عامر محمود کیانی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں بابر اعوان اور عامر محمود کیانی کے درمیان منحرف اراکین قومی اسمبلی کو اظہار وجوہ کے نوٹسز کے اجرا کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے بعد نوٹسز کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دے دی گئی۔

ہم نیوز کے مطابق اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اسمبلی کو اظہار وجوہ کے نوٹسز آرٹیکل 63 اے کے تحت جاری کیے جارہے ہیں۔

ریحام خان نے عمران خان کو کپل شرما شو کی میزبانی کا مشورہ دے دیا

جاری کردہ اعلامیے کے تحت آئین کا آرٹیکل 63 اے اراکین اسمبلی کے فلور کراس کرنے پر کڑی قدغن عائد کرتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق منحرف اراکین کو یکم اپریل دن 12 بجے تک اپنی پوزیشن واضح کرنے کی مہلت دی جائے گی اور مطمئن نہ کرنے والے اراکین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے تحت انحراف کے مرتکب اراکین قومی اسمبلی کے خلاف باضابطہ ریفرنسز اسپیکر کو بھجوائے جائیں گے۔

تحریک عدم اعتماد: اپوزیشن کے 172 ارکان ایوان میں موجود، اجلاس 3 اپریل تک ملتوی

واضح رہے کہ مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ذرائع ابلاغ سے کچھ دیر قبل بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ منحرف اراکین کو دوسرا شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے، منحرف اراکین کو آرٹیکل 63 اے کے تحت ڈی سیٹ کرائیں گے۔

متعلقہ خبریں