نگراں وزیر اعظم کے نام کا اعلان کل متوقع

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف  سید  خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے کل دس یا گیارہ بجے مشاورتی ملاقات ہو گی جس میں نگراں وزیر اعظم کے نام کا اعلان ہو سکتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اگر نگراں وزیر اعظم کے نام کا اعلان کل نہ کیا گیا تو مزید کچھ دن لگ سکتے ہیں، صحافی کے سوال پر کہ کیا احسن بھون جیسے کوئی سینئر وکیل بھی نگراں وزیراعظم ہو سکتے ہیں تو خورشید شاہ نے جواب  دیا کہ جی احسن بھون بھی ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل سید خورشید شاہ نے اعلان کیا تھا کہ نگراں وزیر اعظم کا اعلان 15 مئی کو کیا جائے گا لیکن اس پر کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

آئینی طور پر نگراں وزیراعظم کے نام کا  فیصلہ صدر مملکت ، وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی باہمی مشاورت  سے کرتے ہیں، حزب اختلاف کی تمام پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کے نام قائد حزب اختلاف کے حوالے کرتی ہیں اور وزیراعظم حکمراں جماعت کی جانب سے نامزد امیدواروں کے ناموں کا تبادلہ کرتے ہیں لیکن اس بارمسلم لیگ ن جذبہ خیر سگالی کے طور پر اپنے حق سے دستبردار ہو گئی تھی اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلان کیا تھا کہ پیپلز پارٹی جو نام دے گی اسی کو نگراں وزیراعظم نامزد کر دیا جائے گا۔

آئین کی رو سے اگر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف اسمبلی تحلیل ہونے کے تین دن بعد تک  کسی متفقہ نام پر نہیں پہنچتے تو یہ معاملہ آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے گا جو سبکدوش ہونے والی  قومی اسمبلی کے اسپیکر تشکیل دیں گے، کمیٹی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی مساوی نمائندگی ضروری  ہے اور یہ صرف سینیٹ یا قومی اسمبلی یا دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل ہو سکتی ہے۔

کمیٹی تین دن کے اندر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی جانب سے دیے گئے چار میں سے کسی ایک نام  کے بطور نگراں وزیراعظم تقرری کی پابند ہو گی تاہم اگر کمیٹی بھی کسی نام پر متفق نہیں ہو پاتی تو یہ نام الیکشن کمیشن کے پاس چلے جائیں گے جو دو دن کے اندر اپنی صوابدید  پر کسی بھی شخص کو نگراں وزیراعظم مقرر کر سکتا ہے۔

2013 میں بھی اسی طریقہ کار کے تحت  الیکشن کمیشن نے میر ہزار خان کھوسو کو بطور نگراں وزیراعظم مقرر کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز