شنگھائی میں سخت کورونا لاک ڈاؤن سے معیشت ہل گئی

ٹیسلا کی گیگا فیکٹری سے لے کر ڈزنی کے ایک بہت بڑے ریزورٹ تک، بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں شنگھائی سے کام کر رہی ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں عام طور پر ہلچل مچانے والے مالیاتی مرکز کو کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے بریک لگا دی گئی ہے۔

بہت کم نوٹس پر حکام نے شہر کے 26 ملین سے زیادہ رہائشیوں پر دوسرے فیز کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔  شہریوں کو اینٹی جن کٹ کے ذریعے ازخود کورونا ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں انتظامیہ کو آگاہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں نے کورونا کی سب سے جان لیوا قسم سے خبردار کر دیا

شنگھائی میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 7 ہزار 788 نئے کیسز سامنے آئے جن میں سے 6 ہزار 501 میں کورونا کی کوئی علامت نہیں تھی۔

شنگھائی کا مشرقی حصہ ابھی چار دن کی سخت پابندیوں سے گزرا ہے جبکہ مغربی حصے کو یکم اپریل سے چار روزہ لاک ڈاون کا اعلان کر کے بند کر دیا گیا ہے۔

2019 کے آخر میں ووہان میں پہلی بار کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سے قرنطینہ کا تازہ ترین دور چین کا سب سے بڑا ہے۔ یہ لاک ڈاؤن دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے لیے خاصا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

مالیاتی صنعت کا ایک بڑا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ، شنگھائی سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانکس اور کار مینوفیکچرنگ کا مرکز ہے۔ یہ دنیا کی مصروف ترین شپنگ پورٹ بھی ہے۔

اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ  نے کہا ہے کہ سپلائی چین میں قلیل مدتی رکاوٹوں کا مجموعی طور پر چین کی معیشت پر اثر پڑے گا۔

چینی حکومت نے اس سال ملک کی جی ڈی پی میں 5.5 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ لیکن کچھ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ وہ اس مقصد کو پورا کرنے میں مشکلات ہوں گی۔

 

متعلقہ خبریں