‘‘ اپوزیشن کیوں حکومت کی بحال چاہتی ہے‘‘، وزیر اعظم کا آج ریڈ زون کے باہر احتجاج کا اعلان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آج کل جو صورتحال ہے، فیصلہ کیا کہ آپ کے خدشات سنوں، ہم نے اسمبلی تحلیل کردی، میں نے الیکشن کی بات کی تو یہ سپریم کورٹ چلے گئے۔

عمران خان نے کہا کہ انتخابات کا اعلان کیا تو سپریم کورٹ کس مقصد کےتحت گئے؟ تین سال سے اپوزیشن الیکشن کا شور کررہی تھی، یہ چاہتے ہیں کہ نیب کو ختم کرے، اپنے امپائر کھڑے ہوں,، یہ لوگ الیکشن کمیشن میں مزید دو ممبر کھڑا کرنا چاہتی ہے.

یہ حکومت میں آکر اپنے کیسز اورنیب ختم کرائیں گے۔

عوام سے براہ راست ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمیں اب تجربہ ہوگیا ہے، ٹکٹ کن لوگوں کو دینا چاہیے اس پر کام کررہےہیں، سیاست میں 26 سا ل ہوگئے، میں نے بہت کچھ سیکھا۔

20کروڑدے کرارکان اسمبلی کے ضمیرخریدے گئے، ان کواین آراو ون مشرف نے دیا،این آراوٹو یہ آکرلیں گے، نوازشریف مجرم ہیں،ان کےبیٹے باہربھاگے ہوئے ہیں، اسحاق ڈارمفرورہیں،ان کے بچے بھی بھاگے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اطلاع ملی کہ پنجاب میں بھی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے، بیرونی سازش کے تحت حکومت گرانے کی کوشش کی گئی، خریدوفروخت کے خلاف ریڈ زون کے باہر پرامن احتجاج کریں گے، عشا کے بعد ریڈ زون کے باہر احتجاج میں خود شامل ہوں گا،جس ہوٹل میں خریدوفروخت ہورہی ہےاس کے باہر بھی احتجاج ہوگا۔

5ہفتے پہلے تحریک عدم اعتماد کاڈرامہ شروع ہوا،ایم پی ایز کوخرید کرحکومت بنانا جمہوریت نہیں ہے، منحرف ارکان کوجیلوں میں ڈالنا چاہیے، ہم نے ابھی سےتیاری شروع کردی ہے، ٹکٹ صرف ملک کا سوچنے والوں کوملیں گے۔

بیرون ملک پاکستانیوں نےریکارڈپیسہ بھیجا، تعمیراتی شعبے میں ترقی ہوئی ،ٹیکس بڑھا،ایکسپورٹ بڑھی اور روزگار میں اضافہ ہوا،ایک ماہ سےروپےپر پریشر ہے، اپوزیشن کوفکرتھی ڈیڑھ سال مکمل ہوگئے توان کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔

خیبرپختونخوا کےبلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کامیاب ہوئی، ملکی معیشت کےاشارے مثبت سمت میں ہیں، امربالمعروف قوم کوزندہ رکھتاہے، برطانیہ میں ووٹ خریدنےکا کوئی تصوربھی نہیں کرسکتا۔

3 بار وزیراعظم بننے والے امریکی صدر کے سامنے پرچیاں لیکر بیٹھ گئے، میں دوستی کی بات کرتاہوں مگر اس کا مطلب قوم کی مفاد سے ہٹ کر سمجھوتہ کرنا نہیں۔

ساڑھے 3سال بہت مشکل سے گزرے ہیں، ساڑھے 3سال بلیک میل ہوتے رہے ہیں، ہم جو اب تک کرچکے ہیں وہ کسی اور حکومت نے نہیں کیے ،ہم نے دیگر حکومتوں سے زیادہ فلاحی کام کیے، ای وی ایم مشین پر ان کی تنقید اس لیے تھی کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دیناچاہتے۔

متعلقہ خبریں