زندہ افراد کے پھیپھڑوں میں پلاسٹک کے باریک ذرات موجود ہونے کا انکشاف

زندہ افراد کے پھیپھڑوں میں پہلی بار پلاسٹک کے باریک ذرات موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ  میں کہا گیا ہے کہ  تازہ تحقیق میں زندہ افراد کے پھیپھڑوں میں پلاسٹک کے باریک ذرات پائے گئے ہیں۔یہ ذرات حاصل کیے گئے تقریباً تمام نمونوں میں پائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تحقیق کے لیے  سرجری سے گزرنے والے13 مریضوں کے پھیپھڑوں سے ٹشوز کے نمونے لیے گئے۔ نمونوں میں پائے جانے والی ذرات میں سب سے عام پولی پراپیلین کے ذرات تھے جو پلاسٹک بیگز اور پلاسٹک پائپس میں پائے جاتے ہیں۔

اس سے قبل  مارچ میں کی جانی والی ایک تحقیق میں انسانی خون کے اندر مائیکرو پلاسٹک ذرات پائے گئے تھے۔ ماہرین نے دیکھا کہ یہ ذرات پورے جسم میں سفر کرتے ہیں اور کسی بھی اعضا میں جگہ بنا سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے  کہ پلاسٹک ذرات کی آلودگی اب دنیا بھر میں عام ہو چکی ہے اور ان کے صحت میں مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں اب تشویش بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ  ابھی اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ یہ ذرات صحت پر کیا اثرات  مرتب کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین  کا خیال ہے کہ مائیکرو پلاسٹک انسانی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں