عثمان بزدار کے استعفے میں تیکنیکی غلطی: نیا آئینی بحران پیدا ہوگیا

عثمان بزدار کے استعفے میں تیکنیکی غلطی: نیا آئینی بحران پیدا ہوگیا

لاہور: پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے دیے جانے والے استعفے کی تیکنیکی غلطی سے نیا آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

عثمان بزدار نے اپنے دور حکومت میں صرف 3 غیر ملکی دورے کیے

ہم نیوز کے مطابق اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب گورنر پنجاب نے مستعفی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے تحریر کردہ استعفے پر قانونی رائے باضابطہ طور پر طلب کی۔

گورنر پنجاب نے تحریر کردہ استعفے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے خط لکھ کر قانونی رائے طلب کی تھی جس کا ان کی جانب سے تحریری جواب دے دیا گیا ہے۔

ہم نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے گورنر پنجاب کو بھیجی جانے والی آئینی رائے میں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار نے آئین کے آرٹیکل 130 کے سب سیکشن 8 کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے ہیں۔

پرویز الٰہی نے اسمبلی کو بے وقار کیا، علیم خان کے ساتھ بھی دھوکہ ہوا: حمزہ شہباز

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے تحریرکردہ خط میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کا وزیراعظم کے نام استعفیٰ، آئین کے آرٹیکل 130 کے سب سیکشن 8 کی خلاف ورزی ہے۔

ذرائع کے مطابق خط میں درج ہے کہ  عثمان بزدار نے ٹائپ شدہ استعفے میں وزیراعظم کو مخاطب کر کے استعفی ٰ دیا جب کہ یہ تمام اختیارات گورنر پنجاب کے پاس ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب اور حلف کا معاملہ :گورنر نے ایڈووکیٹ جنرل سےرائے مانگ لی

ہم نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے 28 مارچ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

متعلقہ خبریں