بھارت میں تجاوزات کے نام پر مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جانے لگا

بھارت میں تجاوزات کے نام پر مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں ہندو انتہا پسند مسلمانوں پر زمین تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں تقریباً 9 افراد زخمی ہوئے۔

ہندو انتہا پسندوں نے ان فسادات کا الزام علاقے کے رہائشی مسلمانوں پر لگا دیا جس کے بعد پرتشدد اور دہشت گردی کے واقعات کے بعد سرکاری طور پر مسلمانوں کو سزا دینے کا منصوبہ بنایا گیا اور اب مسلمانوں کے علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے کے نام پر ان گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔

جہانگیر پوری میں بدھ کی صبح مسلمانوں کے گھروں کو تجاوزات کے نام پر مسمار کرنے کے لیے بلڈوزر پہنچ گئے اس موقع پر کارپوریشن کی ٹیم اور پولیس کی بھاری نفری بھی ہمراہ تھی اور علاقے میں 15 سو کے قریب پولیس اہلکار تعینات تھے۔

جب بلڈوزر چلائے گئے تو علاقہ مکینوں نے روکنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ان پر تشدد کیا اور اس دوران مسلمان چیختے چلاتے رہے لیکن کسی نے ان کی ایک نہیں سنی۔

یہ بھی پڑھیں: تیل سے بھرا روسی بحری جہاز سمندر میں روک لیا گیا

مودی سرکار اب بھارت میں مسلمانوں کی زمینوں پر بھی قبضے کر رہی ہے اور ان کے گھروں کو مسمار کر کے انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ غیر قانونی تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تاہم اس میں کوئی سچائی نہیں اور صرف مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ کوئی کارروائی نہ کی جائے اور سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سماعت 21 اپریل کو کرنے کی تاریخ دے دی لیکن سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ایم سی ڈی کی انہدامی کارروائی جاری ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی بلڈوزر کے ذریعہ مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور سپریم کورٹ کے حکم کو بھی سرکار نے پاؤں تلے روند دیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ابھی تک کوئی تحریری حکم نہیں آیا اور جب تحریری حکم آئے گا تو کارروائی روک دیں گے۔

متعلقہ خبریں