مہنگائی پر قابو پانا پوری کابینہ کی اولین ترجیح ہے، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانا پوری کابینہ کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں آج 8 نکاتی ایجنڈے پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ گزشتہ 4 سالہ مالی مشکلات کے اثرات ہر شخص کی زندگی پر مرتب ہوئے تاہم مہنگائی پر قابو پانا پوری کابینہ کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور وزیر اعظم کی خواہش ہے کہ عوام کو فوری ریلیف دیا جائے۔ رمضان بازاروں سے متعلق مانیٹرنگ چیف سیکرٹری کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیلنجز ہیں تو مواقع بھی: حکومتی اتحاد ذاتی نہیں،عوامی مفاد کےلیے ہوگا، شہباز شریف

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب میں وزیر اعظم نے 10 کلو آٹے کا تھیلا 550 سے 400 کا کر دیا ہے جبکہ رمضان بازار اور یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی 70 روپے کی ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹی بنادی دی گئی ہے اور وزیر اعظم کو ہر دوسرے روز اشیا کی قیمتوں پر بریفنگ دی جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے کمیٹی برائے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کی منظوری دے دی ہے اور چار رکنی کابینہ کمیٹی ای سی ایل بنا دی گئی ہے۔ کمیٹی میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اسعد محمود اور نوید قمر شامل ہوں گے اور ای سی ایل پالیسی سے متعلق ردوبدل سمیت دیگر امور کمیٹی دیکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دے دی گئی ہے اور ای سی ایل کمیٹی ٹی او آرز کا جائزہ لے کر کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ کاغذ لہرا لہرا کر احتساب کے ذریعے عمران خان نے انتقام لیا۔ اسٹاپ لسٹ اور واچ لسٹ عمران خان کے حکم پر چلتی رہی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ کو بتایا گیا 4 سال نیب کے خوف کی وجہ سے سرکاری افسران نے کام نہیں کیا اور جب کچھ نہیں ملا تو ایف آئی اے کو استعمال کیا گیا۔ رائے طاہر کو ڈی جی ایف آئی اے تعنیات کرنے کی منظوری دی ہے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خط لہراتے ہوئے کہا کہ میں بھی آپ کو ایک خط دکھانا چاہتا ہوں جو آپ سے چھپایا گیا۔ کھانے پینے کی اشیا میں مہنگائی 17 اعشاریہ 3 فیصد ہے۔ بجٹ خسارہ 18-2017 میں 260 ارب روپے تھا اور پھر 22-2021 میں 5 ہزار 600 ارب روپے ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی قرضے 18-2017 میں 24 ہزار 913 ارب روپے تھے اور پھر یہی عوامی قرضے 22-2021 میں 42 ہزار 745 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ ہم نے ملک میں سڑکوں کا جال بچھایا۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 70 سال میں تمام وزرائے اعظم نے لگ بھگ 25 ہزار ارب روپے قرض لیا اور عمران خان نے پونے 4 سال میں 20 ہزار ارب روپے سے زائد قرض لیا اور عمران خان کا سارا خرچہ تختیوں پر ہی ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں 6.1 فیصد شرح نمو تھی اور اسد عمر نے ایک سال میں 9.1 فیصد بجٹ خسارہ کیا اسی لیے عمران خان نے اسد عمر کو وزارت سے نکال دیا تھا۔ ملک میں اس وقت مہنگائی 17.3 فیصد ہے اور آج دیہی علاقوں میں مہنگائی شہری علاقوں سے زیادہ ہے

وزیر خزانہ نے کہا کہ ن لیگ کا 5 سالہ بجٹ خسارہ 16 سو ارب تھا اور رواں سال 56 سو ارب کا بجٹ خسارہ ہے۔ ٹیکس کولیکشن 11  فیصد پر  چھوڑ کر گئے تھے لیکن آج 9 فیصد پر ہے۔ عمران خان نے پونے 4 سال میں 20 ہزار ارب روپے قرض لیا اور مسلم لیگ ن نے 130 ارب بھاشا ڈیم کی زمین خریدنے پر لگائے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ایچ ای سی کا بجٹ ڈبل کیا جبکہ ن لیگ کے دور میں 122 روپے کا ڈالر تھا لیکن آج 189 کو پہنچ چکا ہے۔ نواز شریف دور میں 2 کروڑ افراد سطح غربت سے باہر آئے اور عمران خان کے دور میں 2 کروڑ افراد سطح غربت سے نیچے چلے گئے۔ امپورٹ پچھلے سال سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ آپ تنقید ضرور کریں لیکن ایسی بات نہ کریں جس پر لوگ تمسخر اڑائیں۔

متعلقہ خبریں