مسلم مخالف سازش، بھارت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھی حجاب پر پابندی عائد

بھارت کے بعد مقبوضہ کشمیر کے اسکول میں بھی حجاب پر پابندی عائد کردی گئی.

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع بارہ مولا کے ایک اسکول میں طالبات اور اساتذہ پر حجاب لینے پر پابندی عائد کردی گئی،جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ مودی انتظامیہ کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو سمجھ لینا چاہئیے کہ یہ بھارت کی کوئی ریاست نہیں، جہاں اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کی آزادی نہیں اور جہاں اقلیتوں کے گھروں کو بلڈوز کیا جاتا ہے.

محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی لڑکیاں حجاب پر پابندی برداشت نہیں کریں گی۔

بھارتی ریاست کرناٹکا میں مسلمان طالبات کے حجاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،  بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز امتحانات میں 6 طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے کمرہ امتحان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، ایک امتحانی مرکز میں چھ طالبات کو حجاب اتارنے کا حکم دیا گیا تاہم طالبات نے منع کردیا جس پر انتظامیہ نے لڑکیوں کو واپس گھر بھیج دیا۔

یہ بھی پڑھیں: حجاب تنازعہ: بھارت میں مسلمان طالبات کو امتحان دینے سے روک دیا گیا

اس سے قبل کرناٹک کے شہر اوڈوپی میں حجاب پر پابندی کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والی طالبہ عالیہ اسدی کو بھی ساتھی طالبہ کے ہمراہ امتحان دینے سے روک دیا گیا تھا۔

کرناٹک میں بی جے پی کی قیادت والی ہندوتوا حکومت نے کلاس رومز میں حجاب پر پابندی لگا دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ حجاب میں ملبوس طلباء اور اساتذہ کو امتحانی مراکز میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

 

متعلقہ خبریں