بلڈ پریشر کی روزانہ دوا سے چھٹکارا جلد ہوگا ممکن

دونوں بلڈ پریشر میں اضافہ خطرناک قرار

فوٹو: فائل

 برطانوی ماہرین نے  مستقل ہائی بلڈ پریشر کےشکار افراد کے لیے انجکشن  بنالیا۔

برطانیہ میں کوئن میری یونیورسٹی اور بارٹس ہیلتھ کمپنی نے مستقل بلند فشارخون کے علاج کے لیے ایک انجیکشن تیار کیا ہے۔ فیز ٹو ٹرائل کی کامیابی کے بعد اس انجکشن کی منظوری دی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انجکشن کی مدد  سے  روزانہ دوا کھانے کی پابندی ختم کی جا سکے گی۔ انجکشن کی ایک خوراک  ہائی بلڈ پریشر کو چھ ماہ تک  کنٹرول رکھنے کے لیے کافی ہوگی۔  امید ہے کہ  2025 میں یہ  انجکشن عام دستیاب ہوگا۔

اس انجکشن کو  زائل بیسائرن کا نام دیا گیا ہے۔زائل بیسائرن کو دنیا بھر کے 630 مریضوں پرآزمایا جارہا ہے۔ یہ تحقیق مزید تین برس تک جاری رہے گی۔

زائل بیسائرن جلد میں لگایا جانے والا ایک ٹیکہ ہے جو اے جی ٹی کی پیداوار بڑھاتا ہے اور خون کی نالیوں کو وسیع کرکے  دوران خون کو معمول پر لاتا ہے۔

واضح  رہے کہ سال2020  میں کی  گئی ایک تحقیق کے مطابق آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں سب سے بڑے ملک پاکستان میں 46 فیصد سے زائد شہری ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ نامی طبی تنظیم کے مطابق ہر 20 میں سے نو سے بھی زائد پاکستانیوں کو ہائی بلڈ پریشر کی طبی حالت کا سامنا ہے اور ایسے شہریوں میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں