جب انصاف نہیں ملے گا تو لوگ سڑکوں پر ہی نکلیں گے، سابق گورنر پنجاب

لاہور: سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ جب انصاف نہیں ملے گا تو لوگ سڑکوں پر ہی نکلیں گے۔ حالات کو خانہ جنگی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔

سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے پنجاب میں سول سرونٹس کو ذاتی ملازم بنا کر آئین کی دھجیاں اڑائیں اور جب مخالف اپنا ووٹ بھی کاسٹ نہ کر سکے تو اسے کیا الیکشن کہنا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے چار فیصلے آئے تو ہم نے خراج تحسین پیش کیا اور بعد میں ہم نے ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ 2007 میں ہم نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ڈنڈے بھی کھائے ہیں۔

عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ 48 گھنٹے میں آئینی، قانونی و سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔ صدر کو آئین کے تحت رپورٹ بھیجی تھی لیکن آئینی طور پر وزیر اعلیٰ آفس خالی نہ ہونے کے باوجود انتخاب کرایا گیا۔ 16 جولائی کا الیکشن غیر آئینی تھا، سیسلین مافیا ملک پر قابض ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس کو غیر قانونی طریقے سے استعمال کیا گیا اور لیگل ٹیم نے لاہور ہائی کورٹ کے 4 فیصلوں میں سے ایک کو غیر آئینی قرار دیا۔ ہم نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رابطے کا فیصلہ کیا اور وکلا برادری کے بھی کچھ لوگوں نے ہماری حمایت کی۔

رہنما پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ کہ چودھری سرور تمام سازش کا حصہ تھے اور عثمان بزدار کا استعفٰی بھی چودھری سرور نے غیر آئینی طریقے سے منظور کیا۔ سیاسی جماعتوں کا کردار بھی آپ کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی وزیر اعلیٰ کے اجلاس کے بعد غیر آئینی وزیر اعلیٰ قابض ہو کر بیٹھ گیا۔ مطالبہ کرتے ہیں کہ آئینی وزیر اعلیٰ کو بحال کرایا جائے اور اس کے آفس سے قبضہ ختم کروایا جائے۔ صدر کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔

یہ بھی پڑھیں: کسی کو تاحیات نااہل کرنا بہت سخت سزا ہے، چیف جسٹس

عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، میں عثمان بزدار نہیں ہوں اور میں یہاں دیہاڑیاں لگانے کے لیے سیاست میں نہیں آیا۔ ہم نے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آج حالات 2007 سے زیادہ خراب ہو گئے ہیں اور مسلم لیگ ن نے عدلیہ کو دھوکے میں رکھا۔

سابق گورنر پنجاب نے کہا کہ چودھری سرور ن لیگ کی طرف سے شاہدرہ سے الیکشن لڑیں گے، پنجاب پولیس کو غندہ بنا کر میرے آفس کو یرغمال بنایا گیا ہے اور رانا ثنااللہ کو گورنر پنجاب کی حیثیت سے خط بھی لکھا لیکن گورنر کے تقدس کا خیال نہ رکھا گیا اور پارلیمان کی بالادستی کی دھجیاں اڑائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس اور سول بیوروکریسی کے زور پر جعلی اور غیر آئینی وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ جب آئینی اداروں اور عدالت میں انصاف نہیں ملے گا تو پھر لوگ سڑکوں پر نکلیں گے۔ میں عثمان بزدار نہیں کہ ان کے غنڈوں سے ڈر کر چپ ہو کر بیٹھ جاؤں بلکہ میں ملک میں نظام اور اداروں کی بہتری کے لیے ہمیشہ کام کرتا رہوں گا۔ یہ حالات کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک آمر نے چیف جسٹس کو ہٹایا تھا اسی طرح سسلین مافیا نے وزیر اعلیٰ کو ہٹایا۔ ہائی بریڈ وار کے دوران سازشیوں کو یہ موقع نہیں دے سکتے کہ یہ اہم تعنیاتیاں کریں۔

متعلقہ خبریں