معاشی بحران خطرناک ہے، فیصلے جلد اور عوام کی مرضی کے نہ ہوئے تو نقصان ہوگا،اسد عمر

ایم کیو ایم کا وفاقی وزیر اسد عمر کو دو ٹوک جواب: اندرونی کہانی منظر عام پر

 رہنما تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ معاشی بحران بد سے بدتر ہو رہا ہے۔ فیصلہ سازی منجمد ہے۔ فیصلے  جلدی اور عوام کی مرضی کے نہ ہوئےتو نقصان ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ مالی سال کی اچھی خبریں صنعت، بجلی اور برآمدات کی بھی ہیں۔زراعت کے شعبے میں کسان کو عمران خان نے انکا حق دلوایا۔اس سال کپاس 18.6 فیصد پیداوار ہوئی ہے جو پچھلے سال سے 9.6 فیصد زیادہ ہے۔مکئی کی فصل ریکارڈ 9.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔آلو کی فصل میں 34.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کی اچھی پالیسیوں سے یہ رزلٹ سامنے  آئے ہیں۔صنعت کے شعبے میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔برآمدات میں 26 فیصد اس سال اضافہ ہمیں نظر آ رہا ہے۔توانائی میں پچھلے سال سے 10 فیصد سے ذیادہ اضافہ ہوا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ملک کو مہنگائی سے بچانے کیلئے ہر طرح کے اقدامات کیے۔براہ راست کمزور طبقہ کو سبسڈی دی گئی۔احساس پروگرام ، پیٹرول اور دیگر اشیاء خوردونوش میں کمزور طبقہ کو سبسڈی دی۔یہ اہل ترین لوگ مہنگائی کا الزام عمران خان پر ڈال  رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ معیشت کا پہیہ اچھا چل رہا تھا۔عدم اعتماد کی تحریک آنے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 37 فیصد کا ضیاع ہوا ہے۔جون میں سٹیٹ بنک کے ذخائر 9 ارب ڈالر تھے۔جب تحریک عدم اعتماد آئی 16 ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔نئی حکومت نے 2 ماہ میں 7 ارب ڈالر اڑا دئیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نئی حکومت نے افراط زر کی شرح 11 سال سے بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔شرح سود میں دو ماہ میں ڈھائی فیصد سے 15 فیصد پر پہنچا دیا گیا۔نئی حکومت کے آتے ہی ملک معاشی بحران کا شکار ہوا ہے۔بیان آتا ہے کل سے آٹا 800 پر آجائے گا لیکن اگلے دن آٹا 1100 پر چلا گیا۔نئی حکومت کے آتے ہی بد ترین لوڈ شیڈنگ پیدا ہوئی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایک طرف زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں، دوسری جانب باہر سے پیسہ لینا مشکل ہوگیا۔وزیر اعظم فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، ہر کوئی ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے ہیں، فیصلہ سازی منجمد ہے۔ پوری یا آدھی کابینہ بیرون ملک مشورے کے لیے بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے دنیا میں غیر معمولی مہنگائی کی وجہ سے ملک میں سبسڈی جاری رکھی۔عمران خان نے سوچتے جانتے بوجھتے فیصلہ لیا کہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالوں گا۔شہباز شریف کی بے بسی دیکھ کر سب سے زیادہ مزے آصف زرداری لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ جو بھی فیصلہ سازی کر رہا تھا، اور کمزورترین حکومت کو مسلط کررہا تھا، وہ بائیس کروڑ عوام کو بھول گئے۔ قوم اب بیدار ہے۔ اگر فیصلے جلد نہ ہوئے اور پاکستان  کے عوام کی مرضی کے نہ ہوئے تو بہت نقصان ہوگا۔ صرف یہ مطالبہ ہے کہ پاکستان کی عوام کو ملک کے مستقبل کے فیصلے کرنے دیں۔ فیصلہ پاکستان کی عوام کے اوپر چھوڑ دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے لوگ سوچتے ہین کہ الیکشن کرائے جائیں۔بشمول مریم نواز مسلم لیگ ن کی یہی سوچ ہے۔حکومتی نمائندے جتنے بھی بیان دیں کہ حکومت کتنی کرنی ہے، انہیں کچھ یقین نہیں ہے کہ دو ماہ بعد ان کی حکومت ہوگی یا نہیں۔غیر مستحکم حکومت ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار انویسٹمنٹ کرنے سے انکاری ہیں۔

 

 

 

متعلقہ خبریں