نئی حلقہ بندیاں:الیکشن کمیشن کونوٹس جاری کرنے کےلیے پی ٹی آئی کی استدعا مسترد

کوروناوائرس کیخلاف یکساں پالیسی مرتب دینے کیلئے وفاق کو ایک ہفتے کی مہلت

فوٹو: فائل

تحریک انصاف کی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پرسپریم کورٹ نے وکیل پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

عدالت نے پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر حلقہ بندیوں کا پلان پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے فواد چوہدری کو بطور وکیل بات کرنے سے روک دیا۔

پی ٹی آئی کی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، وکیل فیصل چوہدری نے کہا الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کریں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ درخواست کو پہلے نمبر لگنے دیں اس کے بعد نوٹس جاری کرنے کے معاملے کودیکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی عمران خان کو چیف سیکیورٹی آفیسر فراہم کرنے کی ہدایت

عدالت نے رجسٹرار آفس کو پی ٹی آئی کی درخواست کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا حلقہ بندیوں کے خلاف درخواست میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔ کیا ترمیمی درخواست میں گرائونڈز اور استدعا میں بھی کوئی تبدیلی کی گئی ہے، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے کہا کہ ترمیمی درخواست میں صرف فریقین کو تبدیل کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن ارٹیکل 51 کے تحت نئی حلقہ بندیاں شروع کر چکا ہے، انہیں نوٹس جاری کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے عمل کا آغازہونے سے کیا فرق پڑتا ہے، پہلے درخواست کو نمبر تو لگ لینے دیں۔

متعلقہ خبریں