میکڈونلڈ کا 30 سال بعد روس سے نکلنے کا فیصلہ

امریکہ کی معروف فاسٹ فوڈ کمپنی میکڈونلڈ نے تیس سال بعد روس سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس سے پہلے روس میں قائم اپنے 850 آؤٹ لیٹس کو عارضی طور بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فاسٹ فوڈ صنعت کی سب سے بڑی کمپنی نے یہ فیصلہ یوکرائن جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران اور سپلائی چین کے مسائل  کی وجہ سے کیا ہے۔

میک ڈونالڈ کے چیف ایگزیکٹو کرس کیمپزنسکی نے عملے اور سپلائرز کو اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی اور اس کے گہرے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس فیصلے پر بحث کرتے ہوئے یہ موقف اپنا سکتے ہیں کہ بغیر تعطل کھانے کی فراہمی اور ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع دیئے رکھنا درست قدم ہو گا لیکن اس کے ساتھ یوکرائن جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کا عندیہ: روسی صدر کا انتباہ

رپورٹ کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تما آؤٹ لیٹس مقامی مارکیٹ میں فروخت کر دیں گے جس سے انہیں ایک ارب بیس کروڑ سے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر حاصل ہونے کا امکان ہے۔

بیان میں مزید کہا ہے کہ میکڈونلڈ کا لوگو برقرار رکھا جائے گا جب کہ 62000 ملازمین کو جاتے وقت تک تنخواہوں کی فراہمی یقینی بنانے کا کہا گیا ہے ۔ ان کی نوکریاں بچانے کی پوری کوشش کی جائے گی ۔ خریدار سے کہا جائے گا کہ ان کی ملازمتیں جاری رکھے ۔

ٹیگز :
متعلقہ خبریں