قرض پروگرام کی بحالی:حکومت اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کل ہوں گے

ہوشیار: آئی ایم ایف نے ڈیل سے قبل 5 پیشگی اقدامات کا مطالبہ کردیا

فائل فوٹو

قرض پروگرام کی بحالی کے لیےآئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان پالیسی مزاکرات کل دوحا میں ہونگے۔

مزاکرات میں شرکت کیلئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل وفد کے ہمراہ دوحا پہنچیں گے۔مزاکرات میں قرض کی اگلی قسط کی  فراہمی سے متعلق تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

واضح رہے پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر قرض کے حصول کے لیے ایک پروگرام  طےکیا تھا جس میں تین ارب ڈالر ملک کو وصول ہو چکے ہیں۔

تاہم گذشتہ حکومت کی جانب سے تیل پر سبسڈی کے خاتمے اور تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس کے بارے میں واضح یقین دہانی نہ کرانے پر یہ پروگرام کچھ مہینوں سے تعطل کا شکار تھا۔

 یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم قیمتوں کا کیا کروں؟ شہباز شریف کا مولانا اور زرداری سے مشورہ

آئی ایم ایف کی جانب سے پروگرام کی بحالی کے لیے کچھ شرائط رکھی گئی ہیں جن میں ڈیزل و پیٹرول پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ، صنعتوں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا خاتمہ، بجلی کے نرخوں میں اضافہ، ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافہ اور مالیاتی خسارہ کم کر نا شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے بجلی کے نرخ میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرول و ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں دس، دس روپے کمی کرتے ہوئے قیمتوں کو اگلے مالی سال کے بجٹ تک منجمد کر دیا تھا۔

 نئی حکومت  بھی پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق باضابطہ طور پر نوٹی فکیشن جاری کیا جس کے تحت قیمتوں  کو آئندہ 15 روز کے لیے برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
متعلقہ خبریں