یمن میں 6 سال بعد پہلی کمرشل پرواز

یمن میں قیام امن کے بعد پہلی پرواز، یمنی درالحکومت صنعا سے چھ سال بعد پہلی پرواز نے اردن کے دارالحکومت عمان کے لیے اڑان بھری۔

اس پہلی پرواز کے طیارے میں 126 مسافر سوار تھے، صنعا کا ہوائی اڈا 2016 سے کمرشل پراوزوں کے لیے بند تھا، اقوام متحدہ کی ثالثی سے ساٹھ روزہ امن معاہدہ گزشتہ ماہ ہوا تھا۔ اسی کے ایک حصہ کے طور پر یہ پہلی کمرشل پرواز چلی ہے۔

اس طیارے پر مریض اور ان کے اہل خانہ سوار تھے، جنہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جا رہے تھے۔ ڈیل کے تحت افتتاحی پرواز 24 اپریل کو صنعا سے عمان کے لیے طے تھی لیکن یمن کی جانب سے ضروری اجازت نامے نہ ملنے کے بعد اسے منسوخ کرنا پڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین نے روسی سرحد کے قریبی علاقے کو واپس قبضے میں لے لیا

یاد رہے یمن میں رمضان کے آغاز سے امن معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے، جس سے عوام کو کافی سہولت ملی ہے۔ 2015 سے سعودی عرب اور یمنی حوثیوں میں جنگ جاری ہے، جس سے سب سے برا اثر عام عوام پر پڑا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ یمنی تنازعے کو دنیا کا بدترین انسانی بحران بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں