پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج سے دوحہ میں ہوں گے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ساتویں اقتصادی جائزہ مذاکرات آج سے دوحہ میں ہوں گے۔

وزارت خزانہ کی ٹیم آئی ئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے دوحہ میں موجود ہے ۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں قرض کی فراہمی سے متعلق بات چیت کی جائے گی۔

واضح رہے پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر قرض کے حصول کے لیے ایک پروگرام  طےکیا تھا جس میں تین ارب ڈالر ملک کو وصول ہو چکے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:رواں مالی سال کے اختتام تک مہنگائی میں ریلیف نہیں ملے گا، آئی ایم ایف

تاہم گذشتہ حکومت کی جانب سے تیل پر سبسڈی کے خاتمے اور تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس کے بارے میں واضح یقین دہانی نہ کرانے پر یہ پروگرام کچھ مہینوں سے تعطل کا شکار تھا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پروگرام کی بحالی کے لیے کچھ شرائط رکھی گئی ہیں جن میں ڈیزل و پیٹرول پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ، صنعتوں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا خاتمہ، بجلی کے نرخوں میں اضافہ، ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافہ اور مالیاتی خسارہ کم کر نا شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے بجلی کے نرخ میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرول و ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں دس، دس روپے کمی کرتے ہوئے قیمتوں کو اگلے مالی سال کے بجٹ تک منجمد کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں